شی جین پنگ اب غیر معینہ مدت کے لیے چین کے صدر رہیں گے
چین کی پارلیمان نے تاریخی اہمیت کی حامل ایک آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے جس کے ذریعے کسی شخصیت کے صرف دو مدت تک صدر کے عہدے پر فائز رہنے کی قدغن ختم کردی گئی ہے اور اب صدر شی جین پنگ غیر معینہ مدت تک ملک کے صدر رہ سکیں گے۔
چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے قریباً تین ہزار ارکان نے آئین میں ترمیم کے لیے ہفتے کے روز رائے شماری میں حصہ لیا ہے۔ان میں سے 2958 مندوبین نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ دو نے مخالفت کی ،تین رائے شماری کے وقت غیر حاضر رہے اور ایک ووٹ کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔اس کے بعد ہال میں اعلان کیا گیا کہ آئینی ترمیم منظور کر لی گئی ہے۔
اس دوران میں 64 سالہ صدر شی جین پنگ اپنی نشست پر ہی براجمان رہے تھے اور انھوں نے کسی قسم کے جذبات کا اظہار نہیں کیا۔وہ کانگریس کے سبکدوش ہونے والے صدر کی پیش کردہ رپورٹ کو سنتے رہے تھے۔ان کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے دوسرے قائدین بھی بیٹھے ہوئے تھے۔
چین کی بعض نمایاں شخصیات اور سوشل میڈیا پر کارکنان نے صدر کی آئینی مدت میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں شخصی حکمرانی اور آمریت کی راہ ہموار ہوگی۔
تاہم چینی مقننہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر کے عہدے کی مدت کی تحدید کا خاتمہ دراصل صدر شی کے دوسرے عہدوں سے مطابقت کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ وہ کمیونسٹ پارٹی اور سنٹرل ملٹری کمیشن کے سربراہ بھی ہیں اور ان دونوں عہدوں کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے۔
اس ترمیم سے سابق چینی صدر ڈینگ ژیاؤ پنگ کے دور سے نافذ صدارتی نظام کو تبدیل کیا گیا ہے ۔ان کے دور میں آئین میں ترمیم کے ذریعے کسی بھی صدر کے لیے دو سے زیادہ مرتبہ تک برسر اقتدار رہنے پر پابندی لگا دی تھی اور اس ترمیم کا مقصد ملک میں شخصی حکمرانی اور آمریت کی راہ روکنا تھا۔