امریکہ کو خدشہ تھا کہ مذاکرات کے دوران اسرائیل عراقچی، قالیباف کو نشانہ بنا سکتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نیویارک ٹائمز نے جمعرات کو امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب واشنگٹن اس سال کے شروع میں تہران سے مذاکرات میں مصروف تھا تو اسرائیل ممکنہ طور پر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کاروں کے قتل کی سازش کر رہا تھا۔

اسرائیل پوری جنگ کے دوران ایران کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو ہلاک کرنے میں کامیاب رہا ہے لیکن "جنگ بندی کے لیے اپریل میں شروع ہونے والے نازک مذاکرات کے دوران دو خاص ایرانی عہدیداروں - وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف - کو نشانہ بنانے کے بارے میں امریکی خدشات بڑھ گئے تھے۔"

رپورٹ کے مطابق بعض عہدیداروں نے کہا کہ امریکہ کو خدشہ تھا کہ اسرائیل کی جانب سے قاتلانہ حملے سے "مذاکرات ناکام ہو جاتے۔"

امریکہ نے مبینہ طور پر خطے کے دیگر ممالک سے کہا کہ وہ "ایران کو اس امکان کے بارے میں خبردار کریں کہ اسرائیل ان دونوں اہلکاروں کو نشانہ بنا سکتا تھا۔"

یاد رہے کہ امریکہ-ایران-اسرائیل جنگ میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ ایران کی بیشتر فوجی اور بحری صلاحیتوں اور افواج کو نشانہ بنایا گیا اور زیادہ سے زیادہ اعلیٰ قیادت اور عہدیداروں کو ہلاک کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

نشانہ بننے والے اعلیٰ اہلکاروں میں ایران کے سربراہ برائے قومی سلامتی علی لاریجانی اور سابق ایرانی وزیرِ خارجہ کمال خرازی شامل ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے وقت یہ دونوں امریکی مذاکرات میں شامل تھے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

مارچ میں وال سٹریٹ جرنل نے اطلاع دی تھی کہ عراقچی اور قالیباف دونوں اسرائیل کے نشانے پر تھے لیکن ایران سے امریکی مذاکرات شروع ہوتے ہی انہیں فہرست سے ہٹا دیا گیا۔

ایران اور امریکہ نے دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور مکمل کیا، ثالثین نے جمعرات کو بتایا جیسا کہ انہوں نے فائرنگ کے حالیہ تبادلے کے بعد مذاکرات میں پیش رفت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران نے "ہر اس بات" پر اتفاق کیا جس کی امریکہ کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size