.

امریکا نے شام میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں نئی مجوزہ قرارداد پیش کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں جنگ بندی کے لیے ایک نئی قرار داد کا مسودہ پیش کردیا ہے۔اس میں شامی فوج کے تباہ کن حملوں کا نشانہ بننے والے علاقے مشرقی الغوطہ میں 30 روز کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نِکّی ہیلی نے سوموار کو کونسل میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں جنگ بندی کے لیے دو ہفتے قبل منظور کردہ قرارداد ناکام ہوچکی ہے اور شامی فوج نے روس کی مدد سے مشرقی الغوطہ پر حملے تیز کررکھے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’جنگ بندی کے لیے ہم نے ایک نئی قرارداد کا مسودہ تیار کیا ہے اور اب اس سے گریز کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔اس وقت مشرقی الغوطہ میں شہری انتہائی سنگین صورت حال سے دوچار ہیں اور امریکا اب کارروائی کررہا ہے‘‘۔

انھوں نے روس پر الزام عاید کیا ہے کہ ’’اس نے شام میں جنگ بندی کے لیے سابقہ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس کے فوری بعد اس نے اس قرارداد کو بے وقعت کردیا اور اس کی منظوری کے صرف چار روز کے اندر اس کے لڑاکا طیاروں نے دمشق اور مشرقی الغوطہ میں روزانہ اوسطاً بیس فضائی حملے کیے تھے‘‘۔

نِکّی ہیلی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا ایسے کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے جو کیمیائی ہتھیاروں اور انسانی مصائب کے ذریعے شہریوں پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔انھوں نے خاص طور شام کے غیرقانونی رجیم کا حوالہ دیا ہے۔

امریکا کی اس مجوزہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس کی منظوری کے فوری بعد مشرقی الغوطہ اور دمشق شہر میں 30 دن کے لیے جنگی کارروائیاں روک دی جائیں ۔اس میں امدادی قافلوں کو محفوظ ، بلاروک ٹوک اور مستقل رسائی دینے اور مشرقی الغوطہ سے مریضوں اور زخمیوں کے غیر مشروط انخلا پر زوردیا گیا ہے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے کونسل کو بتایا ہے کہ 24 فروری کو قرارداد کی منظوری کے بعد سے مشرقی الغوطہ پر فضائی حملے ، توپ خانے سے گولہ باری اور زمینی کارروائیوں میں تیزی آ چکی ہے۔

فرانسیسی سفیر فرانکو ڈیلٹرے نے روس پر زوردیا ہے کہ وہ جنگی کارروائیاں روک دے اور مشرقی الغوطہ پر حملوں کو رکوانے کے لیے شامی حکومت پر دباؤ ڈالے۔ان کا کہنا تھا کہ روس اس ’’خونیں غسل‘‘ کو روک سکتا ہے۔

شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے 18 فروری کو مشرقی الغوطہ پر دوبارہ قبضے کے لیے یہ نئی کارروائی شروع کی تھی۔اس کے بعد سے شامی فوج نے تباہ کن فضائی حملوں کی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی الغوطہ کا قریباً 60 فی صد علاقہ باغیوں سے واپس چھین لیا ہے اور ان کی مسلسل پیش قدمی جاری ہے۔

شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق شامی فوج کی مشرقی الغوطہ میں واقع مختلف شہروں اور قصبوں پر گذشتہ تین ہفتے سے جاری تباہ کن فضائی بمباری اور زمینی گولہ باری کے نتیجے میں تین سو بچوں سمیت ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ ان میں ایک ہزار زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دوما اور دوسرے قصبو ں میں ان کے علاج کے لیے طبی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔