دنیا میں تہلکا مچانے والی کمپنی نے اپنا کاروبار بند کرنے کا اعلان کر دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاناما لیکس کے حوالے سے مشہور اور آف شور کمپنیاں رجسٹر کرنے والی قانونی فرم موساک فونسیکا اپنے آپریشنز بند کرنے جا رہی کیا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق لاطینی اور وسطی امریکا کے سنگم پر واقع ملک پاناما کی ایک معروف فرم موساک فونسیکا نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں تمام پبلک آپریشنز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس سامنے آنے کے بعد اس کے خلاف حکومتی کارروائیوں، میڈیا مہم اور معاشی نتائج سے اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے کمپنی کا بند کیا جا رہا ہے۔

موساک فونسیکا نے بتایا کہ خفیہ اثاثوں کی چھان بین سے متعلق اعلیٰ حکام، سرکاری ونجی تنظیموں کی درخواستیں نمٹانے کیلیے کمپنی کا چھوٹا گروپ کام جاری رکھے گا۔

پاناما اسکینڈل کے بعد موساک فونسیکا نے گذشتہ سال اگست میں بیرون ملک زیادہ تر دفاتر بند کر دیے تھے تاہم اب کاروبار مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپریل 2016 میں پاناما لیکس دستاویزات سامنے آئی تھیں جس میں نواز شریف کے اہل خانہ سمیت مختلف ممالک کے سیکڑوں اعلیٰ حکام اور سیاست دانوں کے بیرون ملک خفیہ اثاثوں کا انکشاف کیا گیا تھا۔ پاناما کی قانونی کمپنی موساک فونسکا دنیا بھر کی شخصیات کو اپنے اثاثے چھپانے اور ٹیکس چوری کے لیے آف شور کمپنیوں کی سہولت فراہم کرتی تھی۔

موساک فونسیکا لاطینی اور وسطی امریکہ کے سنگم پر واقع ملک پاناما کی ایک معروف فرم ہے جو کاروباری شخصیات اور اداروں کو قانونی اور تجارتی امور پر مشاورت فراہم کرنے اور ان کے اثاثوں کی دیکھ بھال کا کام انجام دیتی ہے۔

فرم کی بنیاد جرگن موساک نامی ایک جرمن وکیل نے 1977ء میں رکھی تھی۔ بعد ازاں 1986ء میں پاناما ہی کےایک وکیل رامن فونسیکا اس کمپنی کے شراکت دار بن گئے جس کے باعث اس کا نام 'موساک فونسیکا' ہوگیا۔

موساک فونسیکا اپنے کلائنٹس کے لیے انہی کے سرمایے سے سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، ہانگ کانگ، برٹش ورجن آئی لینڈز، مالٹا اور امریکی ریاستوں نیواڈا اور ویوومنگ میں کمپنیاں قائم کرتی ہیں اور انہیں چلانے کا کام انجام دیتی ہے۔

فرم کا شمار بیرونِ ملک سرمایہ کاری سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے دنیا کی چار بڑے اداروں میں ہوتا ہے اور دنیا کے 40 ممالک میں اس کے دفاتر اور نمائندے کام کر رہے ہیں۔

موساک فونسیکا میں موجود نامعلوم ذرائع نے واشنگٹن میں قائم 'انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس' (آئی سی آئی جے) نامی ایک تنظیم کو فرم کی ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات فراہم کی تھیں۔

آئی سی آئی جے سے تعلق رکھنے والے صحافی گزشتہ ایک سال سے ان دستاویزات کا مطالعہ اور تجزیہ کر رہے تھے جس کے بعد اتوار کو انہوں نے ان دستاویزات کی بنیاد پر مرتب کی جانے والی اپنی رپورٹ آن لائن جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کو 'پاناما پیپرز' کا نام دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے کئی ملکوں کی بااثر شخصیات، سیاست دان حتی کہ سربراہانِ مملکت اور حکومت نے بھی پیسے کی بیرونِ ملک منتقلی اور غیر ملکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لیے موساک فونسیکا کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے دنیا بھر کے 500 سے زائد بینکوں، ان کے ذیلی اداروں اور ان کی شاخوں نے موساک فونسیکا کے ذریعے اپنے صارفین کے لیے بیرونِ ملک 15 ہزار سے زائد ایسی کمپنیاں بنائی ہیں جن کے اصل مالکان کا سراغ لگانا خاصا مشکل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں