سابق روسی ایجنٹ کے خلاف زہریلی گیس کا استعمال، امریکا، فرانس کا برطانیہ سے اظہار یک جہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سلامتی کونسل میں امریکی خاتون سفیر نِکی ہیلی نے بدھ کی شام کہا ہے کہ امریکا کے نزدیک برطانیہ میں سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپل کو زہر دیے جانے کا ذمّے دار روس ہے اور روس کا یہ جرم سلامتی کونسل کے حرکت میں آنے کا متقاضی ہے۔

ہیلی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ "ہم روس کو زہریلی گیس کے استعمال کا ذمّے دار ٹھہرانے کے حوالے سے برطانیہ کے ساتھ ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "روس پر لازم ہے کہ وہ برطانیہ کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات میں تعاون کرے۔ ہم ہر حالت میں برطانیہ کے ہی ساتھ ہیں"۔

دوسری جانب برطانوی مندوب جوناتھن ایلن نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے روس کی تاریخی معروف ہے۔ مندوب کا مزید کہنا تھا کہ "ہم تحقیقات میں کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کی مدد پر آمادہ ہیں"۔ ایلن نے واضح کیا کہ "مقتول پر جس گیس کے آثار پائے گئے ہیں اسے صرف خصوصی تجربہ گاہوں میں ہی تیار کیا جا سکتا ہے"۔

اس دوران فرانسیسی مندوب نے کیمیائی عناصر کے استعمال کی وجوہات جاننے کے حوالے سے برطانیہ کی تحقیقات پر اپنے ملک کے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں مختصر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہمیں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کے واسطے تمام تر کوششیں کرنا چاہئیں"۔

کویتی مندوب نے بھی اعلان کیا کہ ان کا ملک کسی بھی قسم کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ، اس کو قبضے میں رکھنے یا اس کی منتقلی کی مذمت کرتا ہے۔

اس کے مقابل اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب وسیلی نیبینزیا نے برطانوی اور امریکی الزامات کے جواب میں کہا کہ بنا ثبوت پیش کیے الزامات عائد نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کر رہی ہے اور اس نے روس کے خلاف پروپیگنڈے کی جنگ کا باب کھول رکھا ہے۔

روسی مندوب کے مطابق روسی ایجنٹ کے حوالے سے برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کی جانب سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس کو بھیجے گئے خط میں " قطعی طور پر غیر ذمّے دارانہ بیان اور ایک خود مختار ملک کے لیے دھمکیاں شامل ہیں جو سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ برطانیہ کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2.4 کی خلاف ورزی ہے"۔

مندوب کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی کو جس زہریلی گیس کا نشانہ بنایا گیا اس کا ممکنہ ذریعہ برطانیہ ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ کی جانب سے دی گئی مہلت کوئی معنی نہیں رکھتی کیوں کہ یہ دھمکی کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ اس موقع پر روسی مندوب نے تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک سابق جاسوس کو زہر دیے جانے کے معاملے کے حوالے سے 23 روسی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دے گا۔ ٹریزا مے کے مطابق روسی سفارت کاروں کے پاس ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ تیس برسوں کے دوران یہ سفارت کاروں کو نکالے جانے کی یہ سب سے بڑی کارروائی ہو گی۔

ٹریزا مے کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤرف کا برطانیہ کا دورہ منسوخ کر دیا جائے گا اور برطانوی شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔ عالمی کپ کا یہ بائیکاٹ حکومتی اور شاہی سطح پر ہو گا۔

برطانوی حکومت کی سربراہ نے باور کرایا کہ ان کے ملک میں موجود روس کے تمام اثاثوں کو منجمد کر دیا جائے گا

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں