لیبیا میں قتل ہونے والے قِبطی مصریوں کی لاشوں کی 3 برس بعد واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

لیبیا کے شہر سرت میں 21 قِبطیوں کی ہلاکت کو 3 سال گزرنے کے بعد بھی ان مصریوں کی لاشیں ابھی تک لیبیا میں پھنسی ہوئی ہیں۔ تاہم اب مقتولین کے خاندانوں کے لیے امید کی ایک کرن نمودار ہوئی ہے۔

لیبیا کے اٹارنی جنرل الصدیق الصور نے بدھ کے روز مصری اٹارنی جنرل کی اس درخواست پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جس میں فروری 2015ء میں ہلاک کیے جانے والے 21 قِبطی مصریوں کی لاشوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

لیبیا کی ایک نیوز ویب سائٹ "المتوسط" نے اٹارنی جنرل الصدیق الصور کے دفتر میں تحقیقاتی بیورو کے حوالے سے بتایا ہے کہ قِبطی مصریوں کی باقیات سے ڈی این اے حاصل کر لیے گئے۔

تحقیقاتی بیورو کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حاصل کیے گئے ڈی این اے کے نمونوں کو مصری اٹارنی جنرل کے حوالے کر دیا گیا تا کہ انہیں مصر میں مقتولین کے اہل خانہ کے نمونوں کے ساتھ ملایا جا سکے۔

لیبیا کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ قبطیوں کی لاشوں کو مصر کے حوالے کر دیا جائے اور اس حوالے سے سنجیدگی سے تعاون جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں