.

فرانس میں قطری سفارت کار اخوان بارے حکومتی پالیسی پر شرمسار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطری حکومت کے عہدیداروں اور قطری سفارت کاروں کو دنیا بھر میں دہشت گردی کی پشت پناہی کے حوالے سے آئے روز تند و تلخ اور لاجواب کر دینے والے سوالات کا سامنا رہتا ہے۔

ایسا ہی ایک تازہ واقعہ گذشتہ روز فرانس کے صدر مقام پیرس میں پیش آیا جہاں ایک قطری سفارت کار کو اخوان المسلمون کی پشت پناہی اور اخوان قیادت کو پناہ دینے کے حوالے سے سوالات کی بوچھاڑ کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب دوحہ نے دہشت گردی کی پشت پناہی جاری رکھنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور پوری ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اخوان المسلمون اور دیگر شدت پسند گروپوں کی معاونت کر رہا ہے۔

’العربیہ‘ کے مطابق پیرس میں قائم قطری سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری خاطر الخاطر کو صحافیوں نے گھیر لیا۔ انہوں نے الخاطر سے اخوان المسلمون کے بارے میں کئی تلخ سوالات پوچھے جس پر سفارت کار کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے صحافیوں کے کڑوے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’میں ذاتی طورپر اخوان المسلمون کا سخت مخالف ہوں‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ سیاسی اسلام کے حامی ہیں یا مخالف تو انہیں کہا کہ میں سیاسی اسلام کے بھی خلاف ہوں۔

تو کیا آپ سیکولرزم کے حامی اور دین اور ریاست کی علاحدگی کے قائل ہیں تو الخاطر نے کہا کہ ہم ایک سفارت کار کی حیثیت سے میرا جواب ’ہاں‘ میں ہے۔

قطری سفارت کار کا موقف اخوان المسلمون کے بارے میں ریاستی پالیسی کے متضاد ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ اخوان المسلمون قطری حکومت اور اس کے سفارت کاروں کے درمیان بھی متنازع ہے۔