تاریخ کی مختصر ترین جنگ جو صرف 38 منٹ جاری رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگست 1896ء کی 25 ویں تاریخ کو زنجبار (مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ کا ایک نیم خود مختار حصہ) کے لوگ سلطان حمد بن ثوینی البوسعید کی اچانک وفات کی خبر سن کر حیران رہ گئے۔ پراسرار حالات کے سبب غالب گمان یہ ہوا کہ سلطان کو ان کی کسی مقرب نے زہر دیا ہے۔ سلطان کی وفات پر ان کے ایک عزیز خالد بن برغش نے حکمرانی سنبھال لی اور خود کے زنجبار کے علاقے کا سلطان ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر برطانیہ نے نئے سلطان کے اقتدار سنبھالنے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے سلطان حمود بن محمد کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا جو علاقے میں برطانیہ کے مفادات کے لیے زیادہ بہتر صورت میں کام آ سکتے تھے۔

برطانیہ اور زنجبار کے درمیان 1880ء کی دہائی میں طے پانے والے معاہدوں میں انگریزوں نے یہ شق بھی لاگو کی تھی کہ زنجبار میں ہر نئے سلطان کے تقرر کے وقت اسے برطانوی قونصل کی سپورٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ سلطان حمد بن ثوینی البوسعید کی وفات کے بعد برطانوی قونصل نے سلطان خالد بن برغش کو سپورٹ کرنے سے انکار کر دیا اور برطانوی خواہش کے مطابق زنجبار کے اقتدار پر حمود بن محمد کے براجمان ہونے کو ترجیح دی۔

برطانیہ نے نئے سلطان (خالد بن برغش) کو اقتدار حوالے کرنے اور محل سے کوچ کر جانے کے لیے مہلت دی۔ اس کے نتیجے میں سلطان خالد بن برغش نے عسکری قوت تیار کرنا شروع کر دی۔ اس سلسلے میں متعدد غلاموں اور مقامی آبادی کے لوگوں کو شامل کیا گیا۔ سلطان کے محل کو محفوظ بنانے اور ساحلوں پر دفاعی تیاری کرنے کا حکم جاری کیا تا کہ برطانیہ کی جانب سے کسی بھی ممکنہ عسکری مداخلت کو روکا جا سکے۔

ستائیس اگست 1896ء کو صبح نو بجے انگریزوں کی طرف سے سلطان خالد بن برغش کو دی گئی مہلت اختتام پذیر ہو گئی۔ اس کے صرف دو منٹ بعد یعنی 9:02 پر برطانوی بحری جنگی جہازوں نے اپنی توپوں سے سلطان کے محل اور ساحلی دفاعی قوت پر گولہ باری شروع کر دی۔ برطانوی مداخلت کو انگریزوں کے معاون ایک ہزار کے قریب زنجباری جنگجوؤں کی سپورٹ حاصل تھی۔

زنجبار اور برطانیہ کے درمیان یہ جنگ صرف 38 منٹ جاری رہی۔ برطانیہ نے صبح 9:40 منٹ پر گولہ باری روک دی۔ لڑائی کے نتیجے میں سلطان خالد بن برغش کی عسکری قوت میں شامل تقریبا پانچ سو زنجباری فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے جب کہ برطانوی فوج کا فقط ایک فوجی زخمی ہوا۔

سلطان خالد بن برغش اس شکست فاش کے بعد فرار ہو کر جرمن قونصل خانے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔ بعد ازاں وہ مشرقی افریقہ میں ایک جرمن کالونی کی جانب کوچ کر گیا۔ اس دوران برطانیہ نے حمود بن محمد کو سلطان کے منصب پر فائز کردیا۔ یہ واقعہ زنجبار میں برطانیہ کی براہ راست مداخلت کا آغاز تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں