.

سعودی عرب ویژن 2030ء کے تحت اپنی معیشت کو مضبوط بنا رہا ہے: شہزادہ محمد

سعودی ولی عہد کی جامع اصلاحات کے پروگرام کے بارے میں امریکا ، سعودی عرب شراکت داری عشائیے میں گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ویژن 2030ء کے تحت اپنی معیشت کو مضبوط بنا رہا ہے، ترقی پسند سماجی تبدیلی کا عمل متعارف کرا رہا ہے اور سعودی عوام کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ اس کے اپنے علاوہ خطے میں خوش حال مستقبل کی راہ ہموار ہوسکے۔

انھوں نے یہ باتیں سعودی عرب اور امریکا کے درمیان شراکت داری کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہیں۔اس عشائیے کا اہتمام واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے کیا تھا اور امریکا کے اس دورے میں سعودی ولی عہد کی کسی تقریب میں پہلی تقریر تھی۔

اس تقریب میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ 70 سال سے جاری شراکت داری میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات نے بھی تقاریر کیں۔انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے اور انسداد ِدہشت گردی میں تعاون کے علاو ہ دوطرفہ تعلقات مختلف پہلوؤں کے بارے میں اظہار خیال کیا ۔انھوں نے سعودی عرب میں جاری جامع اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’’ آج ہم امریکا اور سعودی عرب کے درمیان فوجی اور عسکری تعاون کے ستر سال منا رہے ہیں۔سعودیوں اور امریکیوں نے اکٹھے تربیت حاصل کی ، وہ مشترکہ خطرات سے نمٹنے اور مشترکہ مفادات کے دفاع کے لیے مل کر لڑے ہیں۔ امریکا سے ہماری تعلق داری مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ہم ایک بہتر مستقبل کے لیے آپ کی حمایت پر شکر گزار ہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ واشنگٹن میں سعودی سفیر اور میرے بھائی نے امریکی فضائیہ سے بطور پائیلٹ تربیت حاصل کی تھی۔وہ اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ پالیسی تو الریاض اور واشنگٹن میں بنتی ہے لیکن یہ تربیت اور پھر لڑائی ہے جہاں دوطرفہ اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور دوستی پروان چڑھتی ہے۔باہمی اٹوٹ تعلقات قائم ہوتے ہیں ۔

سعودی ولی عہد نے اپنی تقریر میں امکانات سے بھرپور ایک تابناک مستقبل کا ویژن پیش کیا اور ویژن 2030ء کے حصول کے لیے اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بتایا ۔ انھوں نے کہا کہ اس ویژن کے تحت مملکت میں جدیدیت پروان چڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون سے ماورا تزویراتی تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔

اس تقریب کے دوسرے سرکردہ مقررین میں جیب بُش ، ڈک چینی ، لنڈزے گراہم ، جیمز بیکر ، ولیم کوہن ، سینڈی شوارزکوف ، شہزادہ بندر بن سلطان اور شہزادہ خالد بن سلمان شامل تھے۔سابق امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر نے کہا کہ پہلی خلیج جنگ کے بعد سعودی عرب اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ اس موقع پر سابق صدر جارج ڈبلیو بش سمیت بعض سابق اعلیٰ عہدے داروں کو سعودی عرب کی جانب سے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔