افغانستان : صوبہ ہلمند میں کار بم دھماکا ، 13 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں ایک اسٹیڈیم کے باہر جمعہ کو کار بم دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں ۔

ہلمند کے پولیس سربراہ عبدالغفار صافی نے بتایا ہے کہ بم دھماکا ایک خودکش بمبار نے کیا ہے ۔اس کا ہدف عام شہری تھے اور اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریب میں کوئی اعلیٰ عہدے دار شریک نہیں تھا۔ صوبائی گورنر کے ترجمان عمر ژواک نے ہلاکتوں کی تعداد 14 بتائی ہے اور کہا ہے کہ 45 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

صوبائی محکمہ صحت کے سربراہ امین اللہ عابد نے کہا ہے کہ مرنے والوں کی لاشیں اور زخمیوں کو لشکر گاہ کے ایک اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ چھے زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ بعض لاشیں جل چکی ہیں اور وہ شناخت کے قابل نہیں رہی ہیں ۔بعض زخمیوں کو اٹلی کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے زیر انتظام ایک شہر میں منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اسٹیڈیم میں افغانستان کے نئے سال کی تقریب کے سلسلے میں کشُتیاں ہورہی تھیں اور ان کے مقابلوں کے اختتامی لمحات میں کار بم دھماکا ہوا ہے۔اس وقت لوگ اپنے گھروں کو لوٹنے کی تیاری کررہے تھے۔

افغان صدر اشرف غنی کے دفتر نے ایک بیان میں نے ’’ دہشت گردی کے اس سفاکانہ حملے‘‘ کی مذمت کی ہے۔ تاہم فوری طور پر کسی گروپ نے اس تباہ کن حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن حالیہ مہینوں کے دوران میں طالبان مزاحمت کاروں اور داعش کے جنگجوؤں نے افغان دارالحکومت کابل اور دوسرے علاقوں میں تباہ کن خودکش بم حملے کیے ہیں اور ان میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

27 جنوری کو کابل شہر کے وسط میں بارود سے بھری ایک ایمبولینس گاڑی کے دھماکے میں 103 افراد ہلاک اور 235 زخمی ہوگئے تھے۔طالبان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔انھوں نے اس سے ایک ہفتہ پہلے کابل ہی میں ایک لگژری ہوٹل پر حملے کی بھی ذمے داری قبول کی تھی۔اس ہوٹل میں کوئی 13 گھنٹے تک ان کی افغان فورسز کے ساتھ لڑائی جاری رہی تھی ۔اس حملے اور جھڑپ میں 14 غیرملکیوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں