.

بھارت: یونیورسٹی میں حملے کا نشانہ بننے والے یمنی طالب علم کی وڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے شمالی شہر گریٹر نوئیڈا میں منگل کے روز شاردا یونیورسٹی کے سات محافظین اور پہرے داروں نے یونیورسٹی کے ایک غیر ملکی طالب علم کو حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والا طالب علم احمد انجینئرنگ کے تیسرے سال میں زیر تعلیم ہے اور وہ یمنی شہری ہے۔ اس سے قبل بعض بھارتی ذرائع ابلاغ نے طالب علم کو سعودی شہری گمان کیا تھا۔

مذکورہ طالب علم احمد کے ساتھیوں نے فیس بک پر 50 سیکنڈ کی ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جو جائے وقوعہ پر موجود ایک عینی شاہد نے اپنے موبائل سے بنائی۔ حملہ آور گروپ پہلے تو احمد پر پل پڑا اور پھر زدوکوب کرنے کے بعد چار افراد اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے یونیورسٹی سے باہر لے گئے۔

واقعے کے بعد احمد نے FIR درج کرواتے ہوئے بتایا کہ "اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھے جس کا پینا یونیورسٹی کیمپس میں ممنوع ہے۔ تاہم وہ سگریٹ پی نہیں رہا تھا"۔ شہر کے انسپکٹر جنرل Ajay Pal Sharma نے اس امر کی تصدیق کی ہے۔

احمد نے یونیورسٹی کے انتظامی ذمے داران کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے جن میں کیمپس کی سکیورٹی کا سربراہ ، اس کا نائب اور پانچ پہرے داروں سمیت 7 سکیورٹی اہل کار شامل ہیں۔ وڈیو کے ذریعے حملہ آوروں کی شناخت بالکل واضح ہے تاہم بھارتی پولیس نے ابھی تک ان افراد کے نام اور تصاویر جاری نہیں کیں۔

انگریزی زبان کے بھارتی اخبارThe Indian Express کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کے سربراہ یونیورسٹی کے جنرل سکریٹری ہیں۔

ادھر انگریزی زبان کے ایک دوسرے اخبار Times of India نے جمعے کے روز اپنی اشاعت میں The Association of African Students in India کے حوالے سے بتایا تھا کہ احمد کا تعلق کینیا سے ہے اور وہ یونیورسٹی میں BBA کا طالب علم ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے طالب علم کے سعودی شہری ہونے کے امکان کے حوالے سے نئی دہلی میں سعودی سفارت خانے سے رابطہ کیا تو وہاں سے بتایا گیا کہ مذکورہ طالب علم سعودی نہیں بلکہ یقینا یمنی شہری ہے۔