.

فیس بُک کا کیمبرج انالیٹیکا ڈیٹا اسکینڈل ، متاثرین میں عرب شہری شامل نہیں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فیس بُک کے آٹھ کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ صارفین کا ڈیٹا کیمبرج انالیٹیکا کے ساتھ شئیر کیا گیا ہے۔فیس بُک کا کہنا ہے کہ ان متاثرہ صارفین کو بہت جلد نیوز فیڈ سے پیغامات موصول ہوجائیں گے ۔ان میں سب سے زیادہ تعداد (سات کروڑ سے زیادہ )امریکی شہریوں کی ہے ۔فلپائن ، انڈونیشیا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دس ، دس لاکھ صارفین کا ڈیٹا کیمبرج انالیٹیکا سے شئیر کیا گیا تھا۔

فیس بُک نے سوموار کو اس حوالے سے تفصیل جاری کی ہے اور اس میں ان صارفین کی قومیت ظاہر کی گئی ہے جن کی معلومات کیمبرج انالیٹیکا کو فراہم کی گئی ہیں۔ان میں مذکورہ ممالک کے علاوہ میکسیکو کے آٹھ لاکھ صارفین اور کینیڈا ، بھارت ، برازیل اور ویت نام کے شہری شامل ہیں لیکن اس فہرست میں کسی عرب شہری کا ذکر نہیں ہے۔

فیس بُک کے تمام دو ارب 20 کروڑ صارفین کو ’’ اپنی معلومات کا تحفظ کریں ‘‘ کے عنوان سے ایک نوٹس موصول ہوگا۔ اس کے ساتھ ایک لنک ہوگا ۔اس کو کھولنے سے ایپلی کیشنز ظاہر ہوں گی اور ان کے ذریعے صارفین اگر چاہیں گے تو مطلوبہ معلومات ظاہر کر سکیں گے جبکہ تھرڈ پارٹی کے لیے ان کو ٹرن آف کرسکیں گے۔

فیس بُک کو اپنے صارفین کے اس طرح ڈیٹا کے افشا پر بدترین بحران کا سامنا ہے اور یہ الزامات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ ٹرمپ سے وابستہ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والی اس فرم نے شاید ان معلومات کو و وٹروں پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا ہے ۔ فیس بُک اب اپنی شہرت کو داغدار ہونے سے بچانے اور صارفین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

فیس بُک کے بانی چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) مارک زکربرگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں سوشل میڈیا کی اس بڑی ویب سائٹ کی حیثیت سے ذمے داری کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہے تھے۔وہ آیندہ ہفتے ڈیٹا کے افشا سے متعلق امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے روبرو پیش ہوں گے۔