دمشق کے کن مقامات پر امریکا نے حملہ کیا؟ جانئے اس رپورٹ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کا دارلحکومت دمشق ہفتے کے روز زور دار دھماکوں سے لرز اٹھا۔ عینی شاہدین کے حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے تسلسل سے یہ خبریں دے رہے ہیں کہ دارلحکومت دمشق کے مشرقی علاقے سے دھویں کے دبیز بادل آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔ ا

ادھر شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مانیٹر کرنے والی آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ دمشق کی برزہ کالونی میں واقع سائنسی تحقیقاتی سینٹر کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

شامی آبزرویٹری نے مزید بتایا ہے کہ دمشق کے سائنسی ریسرچ مرکز کے کمپاونڈ کو حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ شامی حکومت نے ہفتے کے روز نشانہ بنائے جانے والے اہم ٹھکانے اور فوجی ہوائی اڈے گذشتہ ہفتے ہی خالی کر دیئے تھے۔

شام کے سرکاری ٹی وی نے بھی تصدیق کی ہے کہ "اامریکا نے فرانس اور برطانیہ کے تعاون سے شام پر حملہ کیا ہے۔" رپورٹ کے مطابق شامی ائر ڈیفنس نے دمشق کے نواحی علاقے الکسوہ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے داغے جانے والے 13 میزائل ناکارہ بنا دیئے ہیں۔

شام سے موصولہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حملے میں المزہ ہوائی اڈہ، برزہ کالونی کے سائنسی تحقیقاتی مرکز، جمرایا اور مصیاف کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے "العربیہ" نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حملوں میں دارلحکومت دمشق کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ نشانہ بنائے جانے والے مقامات میں شامی ری پبلیکن گارڈز اور فورتھ ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے ہفتے کے روز کئے جانے حملوں میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں کے لئے مختلف نوعیت کے میزائل استعمال کئے گئے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکی حملوں میں کیمیائی مواد تیار کرنے والے یونٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں