.

فلپائن کویت سے تارکینِ وطن کے معاملے پر غلط فہمیوں کے خاتمے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن نے کویت کی جانب سے تارکینِ وطن ورکروں کے حقوق پر پیدا ہونے والے تنازع کے حل کے لیے شاخِ زیتون کا خیرمقدم کیا ہے۔فلپائن نے صدر روڈریگو ڈیوٹرٹ کے تارکینِ وطن کو کویت بھیجنے پر مستقل پابندی کے اعلان کے تین روز بعد یہ مفاہمانہ بیان جاری کیا ہے۔

کویت کے نائب وزیر خارجہ ناصر الصبیح نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ فلپائن کے ساتھ تنازع غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور ہم کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے ہیں ‘‘۔

فلپائنی وزیر خارجہ ایلن پیٹر کیٹانو نے اس مفاہمانہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔انھوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ کویت کی جانب سے خیرسگالی کے اس اظہار یے سے ہمیں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا ۔ ہم کویت کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی دوستی کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں ۔اس دوستی کی مضبوطی اس غلط فہمی کا ازالہ کر دے گی‘‘۔

کیٹانو نے گذشتہ ہفتے کویت میں فلپائنی سفارتی عملہ کی گھریلو ملازماؤں کونکالنے کے لیے ’’ ریسکیو ‘‘ کے نام پر کارروائی پر بھی معذرت کی تھی لیکن کویت نے اس کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور اس نے کویت سے فلپائنی سفیر کو واپس چلے جانے کی ہدایت کی تھی اور منیلا میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

دریں اثناء فلپائنی صدر ڈیوٹرٹ نے یومِ مزدور کے موقع پر اپنے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ کویت تنازع کے خاتمے کے لیے فلپائنی تارکینِ وطن ورکروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرے۔

انھوں نے کہا:’’ ہم مشرقِ اوسط میں کام کرنے والے تارکین وطن اور بالخصوص گھریلو خادماؤں اور ورکروں کے بہتر تحفظ کے لیے کام کررہے ہیں ۔اس تحفظ کے تحت فلپائنی خادماؤں کو اپنے سیل فون اور پاسپورٹس رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے‘‘۔

صدر ڈیوٹرٹ نے کویت سے واپسی کے خواہاں فلپائنی ورکروں کو ٹرانسپورٹ کی مفت پیش کش کا ا عادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی وطن واپسی کی صورت میں ان کی مدد کی جائے گی اور جب تک وہاں سے واپسی کا خواہاں ہر فرد وطن لوٹ نہیں آتا ،اس وقت تک مدد فراہم کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ فلپائنی صدر نے کویت میں مقیم اپنے تمام تارکین ِ وطن ورکروں کو گذشتہ ہفتے کے روز ایک نشری تقریر میں ہدایت کی تھی کہ ’’وہ جلد سے جلد وہاں سے حب الوطنی کا احساس کرتے ہوئے وطن واپس آجائیں ‘‘۔ انھوں نے کہا:’’ میں مزید فلپائنی شہریوں کو کویت نہیں بھیجنا چاہتا ہوں کیونکہ وہ انھیں پسند نہیں کرتے ہیں اور میں انھیں وہاں بھیجنے پر مکمل پابندی عاید کردوں گا‘‘۔