.

ایرانی کرنسی کی قدر میں تاریخی گراوٹ، ایک ڈالر کی قیمت 80 ہزار ریال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے سے علاحدگی کے فیصلے کے بعد ایرانی کرنسی کو تاریخی خسارے کا سامنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذکورہ فیصلے پر دستخط کے فورا بعد ایرانی ریال نئی تاریخی سطح تک نیچے آ گیا اور ایک ڈالر کی قیمت 80 ہزار ایرانی ریال ہو گئی۔ اس طرح ڈالر کی قدر میں یک دم 5000 ریال کے قریب اضافہ ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس صورت حال کے سبب بعض ایرانی ویب سائٹوں نے ڈالر کے نرخ اعلان کرنے کا سلسلہ روک دیا۔

ذرائع کے مطابق ایرانی مںڈی سے ڈالر تقریبا غائب ہو چکا ہے۔ چند روز قبل سکیورٹی فورسز نے بعض تاجروں کو گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد کسی نے منڈی میں ڈالر فروخت کرنے کی ہمّت نہ کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے پاس امریکی ڈالر ہیں وہ انہیں اپنی جان پہچان کے حلقوں میں خاموشی سے فروخت کر رہے ہیں اور اس کے کوئی یکساں نرخ بھی نہیں ہیں۔

ادھر ایرانی گولڈ کوائن کے نرخ 3 لاکھ ایرانی ریال کے فوری اضافے کے بعد 2 کروڑ 13 لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ گئے جب کہ سونے کی قیمت 1.8 لاکھ ریال کے اضافے کے بعد 27.5 لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ گئی۔

واضح رہے کہ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر ولی اللہ سیف گزشتہ روز منگل کو مستعفی ہو چکے ہیں۔ اصلاح پسند ایرانی صحافی بہمن احمدی نے اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ صدر حسن روحانی نے ولی اللہ سیف کا استعفا قبول کر لیا ہے اور اب وہ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کے منصب پر تقرر کے لیے نئی شخصیت کی تلاش میں ہیں۔

مستعفی گورنر نے ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ کو سیاسی وجوہات اور بیرونی دباؤ کے ساتھ جوڑا تھا۔ انہوں نے گزشتہ ماہ ایرانی پارلیمنٹ کے سامنے کہا تھا کہ کرنسی میں دوبارہ شدید مندی نہیں آئے گی۔