.

برطانوی شہری خاتون کو ایران میں سکیورٹی سے متعلق الزامات پر نئے مقدمے کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں قید برطانوی شہری خاتون کے خلاف اب سکیورٹی سے متعلق الزامات پر ایک نیا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران کی انقلابی عدالت کے سربراہ موسیٰ غضنفر آبادی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ نازنین زغری ریٹکلف کے خلاف نئے الزامات سکیورٹی سے متعلق ہیں لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ الزامات جاسوسی سے متعلق ہیں یا کوئی اور ہیں ۔

ایرانی حکام کا قبل ازیں کہنا تھا کہ اس کیس میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے عاید کردہ نئے الزامات پر اس خاتون کو مزید سولہ سال تک قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔

برطانوی اور ایرانی شہری نازنین زغری ریٹکلف اس وقت تہران کی ایوین جیل میں قید ہیں۔ انھیں سپاہِ پاسداران انقلاب نے اپریل 2016ء میں تہران کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔ وہ اس وقت اپنی دو سالہ بچی کے ہمراہ ایران میں اپنے خاندان سے ملنے کے بعد واپس برطانیہ جارہی تھیں۔ عدالت نے انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ان کی قید کی ایک تہائی مدت جنوری 2018ء میں پوری ہو چکی ہے۔

تھامسن رائیٹرز فاؤنڈیشن کی سابق پراجیکٹ مینجر نازنین زغری ریٹکلف پر ایران کے مذہبی علماء کی انتظامیہ کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی لیکن اس الزام کی ان کے خاندان اور تھامسن رائیٹرز فاؤنڈیشن نے تردید کی تھی۔یہ تھامسن رائیٹرز سے آزاد خیراتی تنظیم ہے اور رائیٹرز نیوز سے بھی آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔

ان پر ایسی تنظیموں میں شمولیت اور ان سے رقوم وصول کرنے کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے جو استغاثہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کام کررہی تھیں۔ ان پر لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر ایک مظاہرے میں حصہ لینے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ نازنین ریٹکلف لندن میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے لیے بھی کام کرتی رہی ہیں۔ایرانی حکام بی بی سی پر بھی ایرانی ملّائیت کے نظام کا تختہ الٹنے کے الزامات عاید کر چکے ہیں۔ ایران دُہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا ہے ۔اس لیے ایسے ایرانیوں کو گرفتاری کی صورت میں قونصلر رسائی نہیں دی جاتی ہے اور وہ سالہا سال جیلوں ہی میں سڑتے رہتے ہیں۔