سعودی عرب میں جنسی ہراسیت کو فوجداری جرم قرار دینے کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کی رکن لینا المعینا نے مملکت میں جنسی ہراسیت کو ایک فوجداری جرم قرار دینے کے اقدام کو سراہا ہے۔سعودی شوریٰ کونسل نے خواتین کو ڈرائیونگ اجازت دینے سے چند ہفتے قبل ہی اس قانون کی منظوری دی ہے۔

لینا المعینا نے العربیہ سے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ قدم بھی سعودی عرب میں ویژن 2030ء کے تحت سماجی تبدیلیوں اور اصلاحات کے لیے کی جانے والی مربوط کوششوں کا حصہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے خواتین کو کاریں چلانے کی اجازت دینے سے متعلق فرمان پر آیندہ ماہ سے عمل درآمد کا آغاز ہوگا ۔اس سے قبل شوریٰ کونسل نے جنسی ہراسیت کو ایک فوجداری جرم قرار دے دیا ہے۔یہ اقدام ڈرائیونگ کی خواہاں خواتین کو تحفظ مہیا کرنے کے لیے ضروری تھا اور اب خواتین کو ہراساں کرنے کے مرتکبین اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’اس قانون کے تحت سائبر کرائمز میں ہراسیت کا معاملہ بھی شامل ہے ۔اس کی وضاحت ہراسیت کی عمومی تعریف میں کردی گئی ہے اور اس سے مراد جسمانی یا زبانی نازیبا اظہاریہ ہے۔اس قانون کا مقصد کسی فرد کی شخصی زندگی ، آزادی اور وقار کو تحفظ مہیا کرنا ہے۔اسلامی شریعت میں بھی اس کی ضمانت دی گئی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں