.

داعش کے ہاتھوں تشدد اور زیادتی کا نشانہ بننے والے عراقی بچے علاج کے لیے فرانس میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نزدیک واقع مقام Marne-la-Vallée میں 19 عراقی بچّے بچیاں پہنچائے گئے جن کا مقصد وہاں سکون و راحت کے ساتھ ایک ہفتہ قیام کرنا تھا۔ ان بچوں کو داعش تنظیم کی جانب سے عراق میں تشدد، جبری بھرتی اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان میں زیادہ تر بچّے کُرد یزیدی ہیں جو اپنے گھر والوں کو کھو چکے ہیں۔ یہ لوگ نفسیاتی علاج کی غرض سے تفریحی دورے پر فرانس پہنچے تھے۔ اس دوران انہوں نے کھیلوں اور آرٹ کی سرگرمیوں میں بھرپور طریقے سے حصّہ لیا۔ بچوں نے گُھڑ سواری کی اور ڈزنی لینڈ کے دورے سے بھی لطف اندوز ہوئے۔

مذکورہ بچے اور بچیوں کی عمریں 9 سے 14 برس کے درمیان ہیں۔ بچوں کی نگرانی کرنے والے عراقی اور فرانسیسی نفسیاتی معالجین کا کہنا ہے کہ ان میں بعض بچّے نفسیاتی صدمے سے دوچار تھے جب کہ دیگر بچّے انتہائی تنہائی کا شکار تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے عراقی بچوں کے ساتھ کئی گھنٹے گزارے۔ اس دوران بچوں نے اپنے دکھ درد اور امیدوں کے حوالے سے بات چیت کی۔

بچوں میں شامل ایک لڑکی مدیحہ نے بتایا کہ اُس نے کئی برس تک داعش کے پاس جہنم جیسی زندگی گزاری جس کے بعد اس کے والد اور والدہ روپوش ہو گئے۔ مدیحہ کا کہنا تھا کہ وہ یورپ یا آسٹریلیا میں رہنا چاہتی ہے۔ ایک گیارہ سالہ بچّے غزوان نے بتایا کہ داعش تنظیم نے کم سن بچوں کو بھرتی کرنے کے بعد ان سے مطالبہ کرتی تھی کہ وہ "یزیدیوں، مسیحیوں اور جو کوئی بھی داعش کے خلاف ہو اُن کو قتل کریں"۔

اس حوالے سے بچوں کو ڈرائنگ کے لیے کہا گیا تو پہلے پہل انہوں نے داعش کا پرچم، اس کی جیلیں اور سرنگیں بنائیں۔ ایک معالج کے مطابق بعد ازاں بچوں نے گھر اور باغ کی تصاویر بنائیں جس سے ان کو حاصل ہونے والی نفسیاتی سکون کا اندازہ ہوتا ہے۔

بچوں میں شامل لڑکیوں کو داعش نے کئی مرتبہ فروخت کیا جب کہ بعض کم عمر بچیوں کو بار بار تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

داعش کے ہاتھوں یرغمال بننے والے گھرانوں کا ایک سماجی المیہ یہ بھی ہے کہ عصمت دری کا نشانہ بننے والی خواتین جب آزاد ہوئیں تو ان میں طلاق کی شرح کافی بڑھ گئی۔ اس لیے کہ وہ اپنے شوہروں کی نظروں تک میں مورد الزام بن گئیں۔ اس کے نتیجے میں گھرانے ٹوٹ گئے اور بچّے خاندانی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔