.

صدر ٹرمپ کا امریکا، میکسیکو سرحد پر خاندانوں کو جدا کرنے کا حکم واپس لینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور میکسیکو کے درمیان سرحد پر تارک وطن خاندانوں سے بچوں کو جدا کرنے کے عمل کے خاتمے کے لیے ایک انتظامی حکم پر دستخط کرنے والے ہیں۔اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر میکسیکو سے غیر قانونی طور پر آنے والے خاندانوں سے امریکی حکام بچے چھین لیتے ہیں جس پر خود امریکا میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکی انتظامیہ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جس حکم پر دستخط کررہے ہیں،اس کے تحت تارک وطن خاندان اگر غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہوئے پکڑے گئے تو ان سب کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے ہاتھ بچوں کی علاحدگی کی پالیسی کے حوالے سے بندھے ہوئے ہیں۔

نئے حکم کے تحت غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات چلانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ میں جو کچھ بھی کرنے جارہا ہوں ، وہ پیشگی حفاظتی اقدام ہے اور اس پر قانون سازی ہوگی۔ ہم اپنے ملک کے لیے سکیورٹی چاہتے ہیں‘‘۔

والدین سے سرحد پر جدا کیے جانے والے بچوں کو امریکی حکام پنجروں میں بند کرکے لے جاتے رہے ہیں ۔سوشل میڈیا پر ان بچوں کی ویڈیوز منظرعام پر آنے کے بعد سے خود امریکا میں سرکردہ کاروباری شخصیات سے دانشوروں تک نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس کارروائی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔پاپائے روم پوپ فرانسیس نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں جمعرات کو دو بلوں پر رائے شماری متوقع ہے ۔یہ بل خاندانوں کو جدا کرنے کا عمل روکنے اور تارکین ِ وطن سے متعلق دوسرے ایشوز کے حل کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

تاہم ری پبلکنز ارکان کو ان دونوں بلوں کی منظوری کا یقین نہیں ہے کیونکہ انھیں مطلوبہ تعداد میں ارکان کی حمایت کی توقع نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایوان نمائندگان کے ری پبلکن ارکان سے منگل کی شب گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تارکینِ وطن سے متعلق ان دونوں بلوں کی حمایت کریں گے لیکن وہ ان کی ترجیح نہیں ہیں۔