حوثی ملیشیا نے جامعہ صنعاء کے پروفیسروں کو اغوا کے بعد جیل منتقل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یمن میں حوثی ملیشیا نے جامعہ صنعاء کے گرفتار کیے گئے پروفیسر وں کو جیل میں منتقل کردیا ہے۔ حوثیوں نے کئی روز پہلے ان پروفیسروں کو کسی الزام کے بغیر اغوا کے بعد زیر حراست رکھا تھا۔ اب انھیں کوئی مقدمہ چلائے بغیر ہی جیل بھیج دیا ہے۔

حوثیوں نے جامعہ صنعاء کے چھے پروفیسروں کو دارالحکومت صنعاء کے نواح میں ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کیا تھا۔اس وقت وہ جنوبی شہر عدن میں اپنی تن خواہیں وصول کرنے کے لیے جارہے تھے۔

العربیہ کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق فیکلٹی کے ارکان کو طویل پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ان گرفتار پروفیسروں میں آمنہ یوسف بھی شامل ہیں ۔ حوثیوں نے ان کی بیٹی کو بھی گرفتار کیا تھا۔ تاہم بعد میں انھوں نے پروفیسر آمنہ یوسف کو تو رہا کردیا تھا لیکن ان کی جگہ ملیشیا نے ان کے خاوند فاروق عبدالمالک الحضرمی کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ہے۔

پروفیسر آمنہ یوسف نے اپنے خاوند کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاوند ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں اور انھیں انسولین کا انجیکشن لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاوند پر توکسی قسم کا کوئی الزام بھی نہیں اور حوثیوں نے انھیں بلا جواز ہی گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا ہے۔

انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ ’’ میرے خاوند یونیورسٹی پروفیسر نہیں بلکہ میں یونیورسٹی پروفیسر ہوں ۔ میں اور میرے ساتھی پروفیسروں نے تن خواہوں کی وصولی کے لیے عدن جانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ ہمیں گذشتہ تین سال سے کوئی تن خواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔اب ہم لوگ قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں ، ہماری معاشی حالت پست تر ہوچکی ہے اور ہمیں اپنے خاندانوں کا مالی بوجھ اٹھانے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے‘‘۔

ان خاندانوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ انھیں زیر حراست پروفیسروں سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے اور انھیں ان کی صحت سے متعلق تشویش لاحق ہے۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت وزارت انسانی حقوق نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حوثی ملیشیا جامعہ صنعاء کے پروفیسروں کی جانوں کے تحفظ کی ذمے دار ہے۔وزارت پروفیسروں کے اغوا کے واقعے کو قتل ، اغوا اور جبری گم شدگی کے واقعات کا تسلسل ہی سمجھتی ہے ۔

وزارت نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر ، اقوام متحدہ کے تحت تنظیموں اور بین الاقوامی ریڈ کراس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جامعہ صنعاء کے پروفیسروں کی حوثی ملیشیا کے چنگل سے رہائی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

جامعہ صنعاء اور دوسری تعلیمی تنظیموں نے بھی کسی الزام کے بغیر گرفتار پروفیسروں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔جامعہ کی ٹیچنگ یونین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اغوا کے انداز میں گرفتار کیے گئے پروفیسروں میں جامعہ کے کلیہ تعلیم کے ڈپٹی ڈین برائے طلبہ امور خالد محمد عبدالستار الشماری اور کلیہ تعلیم کے شعبہ سوشل ا سٹیڈیز کے سربراہ عبدالباقی محمد عبد النہری شامل ہیں۔

یونین نے حوثی ملیشیا کی آئین اور قانون سے ماورا اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جامعہ کے پروفیسروں کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ وہ موجودہ ملکی حالات میں اپنے تدریسی فرائض انجا م دے سکیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں