ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود امریکا تارکین وطن کے خلاف مقدمات نہیں چلائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر امریکا آنے والے تارکینِ وطن کو کسی قانونی کارروائی کے بغیر فوراً ملک بدر کردیا جانا چاہیے۔

ایک ٹویٹ پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ "غیر قانونی تارکینِ وطن کو کسی جج یا عدالت کے سامنے پیش کیے بغیر ہی فوراً وہیں واپس بھیج دینا چاہیے جہاں سے وہ آئیں۔"

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ہم ان تمام لوگوں کو اپنے ملک پر ہلہ بول دینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔" انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا نظام "اچھی امیگریشن پالیسی اور قانون و انصاف کے ساتھ ایک مذاق ہے۔"

انھوں نے کہا کہ اس نظام میں ان لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے جو کئی برسوں تک قطاروں میں کھڑے رہ کر قانونی راستے سے امریکا آنے کا انتظار کرتے ہیں۔

امریکا میں گزشتہ کئی برسوں سے میکسیکو، دیگر وسطی امریکی ملکوں اور دنیا بھر سے غیر قانونی طریقے سے امریکا پہنچنے والوں کو عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا ہے جو انہیں پناہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی رہی ہیں۔

گذشتہ ماہ ٹرمپ حکومت نے یہ پالیسی ختم کرنے اور غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کو گرفتار کرکے ان کے خلاف فوجداری مقدمات چلانے کا اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ حکومت کی اس پالیسی کے نتیجے میں تارکِ وطن کے ساتھ آنے والے بچوں کو ان کے والدین یا سرپرستوں سے الگ کرکے سرکاری کیمپوں میں رکھا جا رہا تھا اور ان کے بڑوں کو جیل بھیجا جا رہا تھا۔

اس پالیسی پر ملک بھر میں اور بیرونِ ملک کڑی تنقید ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بچوں کو ان کے اہلِ خانہ سے الگ کرنے کی پالیسی ختم کردی تھی۔

امریکا کے موجودہ قوانین کے تحت بچوں کو 20 دن سے زیادہ جیل میں نہیں رکھا جا سکتا جس کی وجہ سے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے لیے تارکینِ وطن کو جیلوں میں رکھنے کی پالیسی پر عمل درآمد مشکل ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں