سعودی خواتین وکلاء کی تعداد میں تین سال میں 240 فی صد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی وزارت انصاف نے گذشتہ تین سال کے دوران میں خواتین وکلاء کو ریکارڈ تعداد میں لائسنس جاری کیے ہیں اور لائسنس حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد میں 240 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارت ِ انصاف کی جانب سے 1434ھ میں خواتین کو وکالت کے لائسنس جاری ہونے کے بعد سے خواتین وکلاء کی تعداد میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔سعودی وزارت انصاف نے گذشتہ تین سال کے دوران میں خواتین کو 77.5 فی صد لائسنس جاری کیے ہیں۔

وزارتِ انصاف کی جانب سے لائسنس کے اجراء کے آغاز کے بعد پہلے سال خواتین کو صرف دس لائسنس جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔تاہم رواں سال اب تک 95 لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔

ایک معروف سعودی وکیل راندہ حسین عارف نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیر تربیت خواتین وکلاء کی پیشہ ورانہ اہلیت کی سطح بلند ہوئی ہے۔سعودی خواتین مسلسل مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔

راندہ عارف کے مطابق خواتین کی عدالتوں اور لا دفاتر میں موجودگی سے نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد اب قانون کے موضوعات پر مضامین لکھ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی خواتین معاشرے کا نصف ہیں اور وہ ملک کی خوش حالی اور ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر انصاف اور سپریم جوڈیشیل کونسل کے صدر ولید بن محمد السمعانی نے سعودی خواتین کو بااختیار بنانے میں اہم اقدامات کیے ہیں۔انھوں نے خواتین کو وکالت کے مصدقہ لائسنس کے حصول کے لیے ہدایات جاری کی تھیں۔

سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے تحت خواتین کے لیے ملازمتوں کے بھی نئے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں اور انھیں مختلف شعبوں کا حصہ بنایا جارہا ہے۔اب خواتین پر 24 جون سے ڈرائیونگ کی پابندی کے خاتمے کے بعد ان کے لیے روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے اور توقع ہے کہ 2020ء تک قریباً تیس لاکھ خواتین سعودی سڑکوں پر کاریں چلا رہی ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں