.

ایران کا سیاسی نظام نہیں بلکہ اس کا رویہ بدلنا چاہتے ہیں:واشنگٹن

پچاس کاروباری کمپنیوں نے ایران سے لین دین محدود کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے سیاسی امور کے سینیر مشیر ’برائن ہک‘ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عاید کردہ نئی اقتصادی پابندیوں کے بعد 50 عالمی تجارتی کمپنیوں نے ایران سے لین دین محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ’پرائن ہوک‘ نے کہا کہ ہمارا مقصد ایران میں سیاسی نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ ہم ایران کی سرکاری پالیسی اور اس کا رویہ بدلنا چاہتےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدے کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم کو خطے کے ممالک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی عہدیدار کا کہنا تھا ایران خطے میں تشدد کو ہوا دینے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ دُنیا کے بیشترممالک ایران کے خلاف ہمارے موقف کے حامی ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے سینیر عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کا مقصد تہران کے تیل کے ریونیو کو صفر تک لے جانا ہے تاکہ اس کے نتیجے میں ایرانی قیادت اپنا رویہ تبدیل کرنے پرمجبور ہوجائے۔