.

ٹرمپ اور پوتین کے بیچ ملاقات پر نیٹو اتحاد "اندیشوں" کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں ارکان پارلیمنٹ اور سکیورٹی ماہرین اس امکان پر گہری تشویش محسوس کر رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پوتین کے ساتھ ملاقات کے دوران ایسے اقدامات کریں گے جن پر شمالی اوقیانوسی دفاعی اتحاد "نیٹو" کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہوا۔

جرمنی میں حکمراں اتحاد میں تعلقات کے رابطہ کار پیٹر بائر کا کہنا ہے کہ ہلسنکی میں 16 جولائی کو ٹرمپ اور پوتین کی سربراہ ملاقات کی منصوبہ بندی میں نیٹو کے ممالک کو شامل نہیں کیا گیا۔ ہفتے کے روز نشر ہونے والے ایک میڈیا انٹرویو میں بائر کا کہنا تھا کہ "نیٹو اتحاد میں اُن سجمھوتوں کے حوالے سے اندیشوں میں اضافہ ہو رہا ہے جو پوتین اور ٹرمپ کے بیچ ہو سکتے ہیں"۔

ڈونلڈ ٹرمپ منگل کے روز یورپ روانہ ہونے کی تیاری میں ہیں جہاں برسلز میں نیٹو اتحاد میں امریکا کے حلیفوں کے ساتھ اجلاسوں کا انعقاد ہو گا۔ پوتین کے ساتھ ملاقات سے قبل امریکی صدر برطانیہ کا دورہ بھی کریں گے۔

بائر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سنگاپور میں ٹرمپ کی شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے ساتھ حالیہ ملاقات نے یہ اندیشے بھی پیدا کر دیے ہیں کہ امریکی صدر پوتین کو موقع اس بات کا موقع دیں گے کہ وہ ہلسنکی میں ٹرمپ کو "دھوکہ" دے سکیں۔

بائر کے مطابق "کِم جونگ اُن نے ابھی تک وعدوں کے سوا کچھ پیش نہیں کیا۔ ہمیں نہیں معلوم آیا کہ وہ یورینیم کی افزودگی سے رک گئے ہیں۔ صرف ٹرمپ نے اس ملاقات کو کامیاب قرار دیا "۔

یاد رہے کہ بائر جرمنی میں کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے رکن ہیں جس کی سربراہ انگیلا میرکل ہیں۔

دوسری جانب میونخ امن کانفرنس کے سربراہ اور امریکا میں جرمنی کے سابق سفیر وُولف گینگ ایشنگر کا کہنا ہے کہ دونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے برسلز میں نیٹو اتحاد کے سربراہ اجلاس کے دوران بیان پر دستخط کرنے سے انکار کر سکتے ہیں، اسی طرح جیسے انہوں نے جی – 7 کے سربراہ اجلاس میں کیا تھا۔ جرمن اخبار Die Welt میں ہفتے کے روز شائع ہونے والے انٹرویو میں ایشنگر کا کہنا تھا کہ "ٹرمپ کی تنقید کے باوجود نیٹو اتحاد کئی برسوں سے بہترین حالت میں ہے۔ اس دوران عسکری اخراجات اور دفاع کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا"۔

ادھر فِری ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کرستیان لیندنر نے جرمن اخبار ڈوئچ لینڈ فوک کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ ٹرمپ پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔ کرستیان کے مطابق تجارت کے حوالے سے اور سکیورٹی کے شعبے میں ٹرمپ کے تصرفات طویل مدت میں امریکا کے مفاد میں نہیں ہیں۔