.

الجزائر : مہاجرین کے خلاف نسل پرستی کے خاتمے کی جنگ "سیلفی" کے سنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے شہریوں نے غیر قانونی مہاجرین اور تارکین وطن کے خلاف کسی بھی نسلی امتیاز کو مسترد کر دینے سے متعلق اپنے جذبات کے اظہار کے لیے افریقی مہاجرین کے ساتھ سیلفی بنوانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ رجحان حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک وڈیو کے جواب میں سامنے آ رہا ہے جس میں ایک نوجوان کو افریقی بچّے پر حملہ آور ہوتے دکھایا گیا۔

اس سلسلے میں No to Racism کے ہیش ٹیگ # کے تحت فیس بک پر الجزائری باشندوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں وہ مختلف عمروں اور طبقوں کے مہاجرین کو سینے سے لگاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جن کو اُن کے ممالک کے حالات نے الجزائر میں داخل ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان تصاویر کے ذریعے الجزائریوں نے مہاجرین کی مشقّت کے حوالے سے ہمدردی اور نسلی امتیاز یا ہتک آمیز رویّے کے خلاف ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اظہار کیا۔

اس موقف پر الجزائری شہریوں کی جانب سے مختلف تبصرے سامنے آئے ہیں۔ ایک تبصرے میں کہا گیا ہے کہ "نسل پرستی ہماری صفات اور ہمارے اخلاق میں سے نہیں۔ ہمارے دین سے ہمیں یہ ہی سکھایا ہے اور ہم اپنی اولاد کو بھی اسی کی تعلیم دیں گے"۔

ایک دوسرے تبصرے میں یہ کہا گیا کہ "نسل پرستی کی کوئی گنجائش نہیں البتہ تواضع کو خوش آمدید"۔