.

فرانس نے شدت پسند مبلغ الجزائر کے حوالے کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی حکومت نے کل سوموارکو ایک انتہائی خطرناک دہشت گرد اور شدت پسند مبلغ جمال بغال کو افریقی ملک الجزائر کے حوالے کردیا۔ بغال کو جیل سے براہ راست الجزائر کے حوالے کیا گیا۔ قبل ازیں شدت پسند مبلغ کی حوالگی کے بارے میں دونوں ملکوں میں ایک سفارتی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت بغال کو اس کے اصلی ملک کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق جمال بغال پر دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں بالواسطہ یا براہ راست ملوث ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ سنہ 2005ء میں فرانسیسی حکام نے اسے دہشت گردی کی سرگرمیوں اور پیرس میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا۔ دو سال کے بعد فرانس نے اس کی شہریت بھی منسوخ کردی اور اسے الجزائر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا مگر بعد میں الجزائرمیں دوران حراست تشدد کے خدشے کے تحت اس کی حوالگی روک دی گئی تھی۔

سنہ 2009ء میں 52 سالہ بغال پر گُستاخانہ خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی اخبار ’شارلی ایبڈو‘ کے دفتر پرحملے کے لیے شریف کواشی نامی ایک شدت پسند کو بھرتی کرنے اور جنوری 2015ء کو پیرس میں ایک یہودی کاروباری مرکز میں شہریوں کو یرغمال بنانے کے لیے حمد کولیبالی کو تیار کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔ ان دونوں کا بغال کے ساتھ تعارف 2005ء میں فلوری میروگیبس جیل میں ہوا تھا جس کے بعد انہوں نے القاعدہ کے نظریات اختیار کر لیے تھے۔

سنہ 2013ء میں بغال پر دوبارہ مقدمہ چلایا گیا اور اسے ایک بار پھر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر الجزائر میں شدت پسند جماعت اسلامی کے ایک رہ نما کو جیل سے فرار کرانے میں مدد دینے کا الزام عاید کیا گیا تھا تاہم سنہ 2016ء کو اس نے رہائی پالی تھی۔

بغال نے 21 سال کی عمر میں الجزائر سے فرانس کا سفر کیا جہاں اس نے فرانسیسی شہریت حاصل کرنے کے ساتھ ایک فرانسیسی خاتون کے ساتھ شادی بھی کی۔ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کچھ عرصہ برطانیہ میں بھی مقیم رہا جہاں اس نے عمرمحمود محمد عثمان المعروف ابوقتادہ کی زیرنگرانی مسجد میں اپنے دہشت گردانہ سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ سنہ 2000ء سے قبل وہ افغانستان کا سفر بھی کرچکا تھا۔ اسے فرانس میں امریکی سفارت خانے پرحملے کی سازش تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اسی الزام میں اسے دس سال قید کی سزا ہوئی تھی۔

اب بغال کو الجزائر کے حوالے کردیا گیا ہے جہاں اسے دہشت گردی اور مسلح گروپ کے ساتھ وابستگی کے الزامات کے تحت 20 سال قید کی سزا کا امکان ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بغال کی الجزائر حوالگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے الجزائر میں دوران حراست غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔