روسی صدر کو امریکا دورے کی دعوت دی جائے: صدر ٹرمپ کا مطالبہ
مجوزہ دعوت امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس کے لیے حیران کن ثابت ہوئی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادی میر پوتین کو امریکا کے دورے کی دعوت دے دی ہے، حالانکہ حال ہی میں ہیلسنکی میں دونوں کی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کو امریکا میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی صدر کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز نے ٹوئٹر کے ذریعے اطلاع دی کہ اس دورے کی تیاریاں پہلے ہی سے شروع ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے پوتین کی یہ تجویز مسترد کر دی تھی کہ روس کو امریکی شہریوں سے پوچھ گچھ کرنے کی اجازت دی جائے۔
In Helsinki, @POTUS agreed to ongoing working level dialogue between the two security council staffs. President Trump asked @Ambjohnbolton to invite President Putin to Washington in the fall and those discussions are already underway.
— Sarah Sanders (@PressSec) July 19, 2018
دونوں رہنماؤں کے درمیان فن لینڈ کے شہر ہیلسنکی میں بند کمرے میں ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد خود ٹرمپ کی جماعت کے لوگوں نے بھی اس پر تنقید کی تھی۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنے الفاظ کی اصلاح کرنا پڑی تھی اور کہنا پڑا تھا کہ وہ انھوں نے ایک لفظ غلط بول دیا تھا۔ تاہم جمعرات کو انھوں نے کہا کہ یہ ملاقات 'زبردست کامیابی' رہی اور وہ اگلی ملاقات کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ اعلان امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس کے لیے حیران کن ثابت ہوا اور انھوں نے یہ خبر سننے کے بعد کہا کہ 'یہ ملاقات بہت خاص ہونے والی ہے۔'
سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ چک شومر نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ پوتین سے اپنی ملاقات کی تفصیل ظاہر کریں۔ انھوں نے کہا: 'جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ ہیلسنکی میں دونوں کے درمیان دو گھنٹوں تک کیا باتیں ہوئیں، اس وقت تک صدر کو پوتن کے ساتھ اکیلے میں ملاقات نہیں کرنی چاہیے۔ خواہ یہ ملاقاتیں امریکا میں ہوں، روس میں، یا کہیں اور۔'