روسی صدر کو امریکا دورے کی دعوت دی جائے: صدر ٹرمپ کا مطالبہ

مجوزہ دعوت امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس کے لیے حیران کن ثابت ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادی میر پوتین کو امریکا کے دورے کی دعوت دے دی ہے، حالانکہ حال ہی میں ہیلسنکی میں دونوں کی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کو امریکا میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی صدر کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز نے ٹوئٹر کے ذریعے اطلاع دی کہ اس دورے کی تیاریاں پہلے ہی سے شروع ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے پوتین کی یہ تجویز مسترد کر دی تھی کہ روس کو امریکی شہریوں سے پوچھ گچھ کرنے کی اجازت دی جائے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان فن لینڈ کے شہر ہیلسنکی میں بند کمرے میں ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد خود ٹرمپ کی جماعت کے لوگوں نے بھی اس پر تنقید کی تھی۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنے الفاظ کی اصلاح کرنا پڑی تھی اور کہنا پڑا تھا کہ وہ انھوں نے ایک لفظ غلط بول دیا تھا۔ تاہم جمعرات کو انھوں نے کہا کہ یہ ملاقات 'زبردست کامیابی' رہی اور وہ اگلی ملاقات کا انتظار کر رہے ہیں۔

یہ اعلان امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس کے لیے حیران کن ثابت ہوا اور انھوں نے یہ خبر سننے کے بعد کہا کہ 'یہ ملاقات بہت خاص ہونے والی ہے۔'

سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ چک شومر نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ پوتین سے اپنی ملاقات کی تفصیل ظاہر کریں۔ انھوں نے کہا: 'جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ ہیلسنکی میں دونوں کے درمیان دو گھنٹوں تک کیا باتیں ہوئیں، اس وقت تک صدر کو پوتن کے ساتھ اکیلے میں ملاقات نہیں کرنی چاہیے۔ خواہ یہ ملاقاتیں امریکا میں ہوں، روس میں، یا کہیں اور۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں