واشنگٹن کی جانب سے خطرے کی گھنٹی ، ایران بڑے سائبر حملے کی تیاری میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی نیوز چینل "NBC" کے مطابق امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے والے ہیکروں کے نیٹ ورکس اس وقت امریکی اور یورپی انفرا اسٹرکچر، عالمی نجی کمپنیوں اور خطے کے ممالک میں برقی نظاموں پر سائبر حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ مذکورہ چینل کا کہنا ہے کہ امریکی عہدے داروں نے باور کرایا ہے کہ جوہری معاہدے کے مکمل طور پر خاتمے کی صورت میں ایران نے وسیع پیمانے پر سائبر حملوں کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

امریکا میں کولوراڈو میں ہونے والے Aspen Security Forum 2018 کا مرکزی موضوع سائبر خطرات تھا۔ اس حوالے سے قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈان کوٹس، ایف بی آئی کے بیورو چیف کِرِس ورائے اور پراسیکیوٹر جنرل روڈ روزنشٹائن نے روس، چین ، ایران اور شمالی کوریا کی جانب سے سنگین خطرات سے خبردار کیا۔

ایسپن فورم کے دوران ڈان کوٹس کا کہنا تھا کہ روس سائبر عداوت کے میدان میں ایران اور چین سے زیادہ سرگرم رہا۔ تاہم دیگر امریکی عہدے داران نے باور کرایا ہے کہ ایران اس سلسلے میں یہ تیاریاں کر رہا ہے کہ امریکا، جرمنی، برطانیہ اور یورپ اور مشرق وسطی کے ممالک میں بجلی کے نیٹ ورکس، پانی کے پلانٹس کے علاوہ صحت کی دیکھ بھال اور ٹکنالوجی کی کمپنیوں کے خلاف سائبر حملوں کے ذریعے ان کی خدمات کو معطل کر دیا جائے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے ترجمان علی رضا میر یوسفی نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ "سائبر میدان میں حملہ آور کی حیثیت رکھتا ہے"۔ ایک بیان میں یوسفی نے کہا کہ "ایران کسی طور بھی امریکا کے ساتھ سائبر جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا ہے"۔

رواں برس مئی میں جوہری معاہدے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی علاحدگی کے بعد امریکی حکومت کو متنبہ کیا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے سائبر حملوں کے ذریعے انتقام لیے جانے کا امکان ہے۔

جمہوریت کے دفاع سے متعلق ایک ایرانی ماہر بہنام بن طالبلو نے بتایا کہ مغربی ممالک کا انفرا اسٹرکچر ایرانیوں کے لیے پُر کشش ہدف ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران مغرب کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی استعمال میں لانے کا میلان رکھتا ہے

این بی سی چینل کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدے داروں نے یورپ اور مشرق وسطی میں اپنے حلیفوں کو اس ممکنہ ایرانی خطرے سے آگاہ کرنے کے بعد ممکنہ ردود عمل کی ایک فہرست تیار کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

تاہم سینئر امریکی عہدے داران اقدامی حفاظتی سائبر حملہ استعمال کرنے کے حوالے رائے کی تقسیم کا شکار ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ اعلانیہ طور پر ایرانی دھمکیوں اور خطرات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا سہارا لینے کی تیاری میں ہے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی انتظامیہ نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اپنے سفارت خانوں کو دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کو خطّے میں اپنی جارحیت کی "بھاری قیمت" چکانا ہو گی۔ ایران نے مشرق وسطی کے تیل کی ترسیل کو معطّل کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی دی تھی۔

سال 2016ء میں امریکا میں استغاثہ کے نمائندوں نے تہران حکومت کے ساتھ منسلک 7 ایرانی کمپیوٹر ماہرین پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے امریکی بینکوں اور نیویارک میں ایک ڈیم کو سائبر حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں