.

ایران میں احتجاج میں شریک طلبہ کی گرفتاری ، امریکا کی جانب سے سخت مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے ایرانی انقلابی عدالتوں کی جانب سے درجنوں ایرانی طلبہ کے خلاف طویل قید کے فیصلوں کی مذمت کی ہے۔ مذکورہ طلبہ پر دسمبر اور جنوری میں ہونے والے اُن پُر امن احتجاجی مظاہروں میں شرکت کا الزام تھا جن کو ایرانی حکومت نے طاقت کے زور پر کچل دیا۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیزر نوئرٹ نے جمعے کی شام اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ "پر امن مظاہرے کے دوران اپنی آراء کے اظہار کے سبب طلبہ کی سرزنش نہیں کی جانی چاہیے۔ یہ عالمی انسانی حقوق ہیں اور ایران کو ان کے احترام کی پاسداری کرنا چاہیے"۔

پیر کے روز ایران کی 68 طلبہ انجمنوں نے ملک کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے درجنوں گرفتار طلبہ کے خلاف جیل کے احکامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان طلبہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

ایرانی پارلیمنٹ کی خاتون رکن پروانہ سلحشوری کے مطابق تقریبا 150 زیر حراست طلبہ کے خلاف جیل کے احکامات جاری ہوئے۔

ایران کے سائنس و ٹکنالوجی کے وزیر منصور غلامی نے بتایا کہ دسمبر 2017ء میں احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ میں سے 12% کو چند ماہ سے لے کر کئی سال تک کی جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔

دو ہفتے قبل ایران کی جامعات کے 125 اساتذہ نے صدر حسن روحانی کو بھیجے گئے ایک خط میں طلبہ کی حراست جاری رہنے اور حالیہ چند ماہ کے دوران ان کے خلاف جاری احکامات پر احتجاج کیا۔ اساتذہ نے روحانی سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ طلبہ کی رہائی کے لیے حرکت میں آئیں تا کہ یہ طلبہ اپنی تعلیمی نشستوں پر واپس لوٹ سکیں۔