فٹبال عالمی کپ کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے قطر نے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" کے مطابق فٹبال عالمی کپ کی میزبانی سے متعلق قطری ٹیم نے دیگر حریف ممالک کو سبوتاژ کرنے کے لیے پروپیگنڈا مہم کے سلسلے میں "سیاہ کارستانیوں" کا سہارا لیا جو فٹبال کی بین الاقوامی فیڈریشن "فیفا" کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اخبار کے مطابق اُس کے سامنے آنے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ ٹیم نے تعلقات عامہ کی ایک امریکی فرم اور CIA کے سابق ایجنٹوں کو رقوم ادا کیں تا کہ وہ آسٹریلیا اور امریکا جیسے حریف ممالک کی پیش کش کو نشانہ بنانے کے واسطے "گمراہ کن" پروپیگنڈے کو فروغ دیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ قطر کی حکمت عملی یہ تھی کہ ایسے با اثر افراد کو بھرتی کیا جائے جو دیگر نامزد ممالک میں کام کر کے ایسی فضا پیدا کری دیں جس سے یہ تاثر ملے کہ فٹبال عالمی کپ کی میزبانی کے لیے ان ممالک کے شہریوں کی جانب سے کوئی حمایت موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ فیفا کے بنیادی معیار میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نامزدگی کو میزبانی کے خواہش مند ممالک کے شہریوں کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہو۔

فیفا کے قوانین میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میزبانی کے امیدوار ممالک دیگر خواہش مند ممالک یا پیش کش کے حوالے سے کسی قسم کا زبانی یا تحریری مواد جاری نہیں کر سکتے۔

تاہم سنڈے ٹائمز کے سامنے اِفشا ہونے والی ایک ای میل سے جو قطر کے معاملے سے متعلق ایگزیکٹو کمیٹی کے نائب سربراہ علی الذوادی کو بھیجی گئی تھی ظاہر ہوتا ہے کہ قطر کو دیگر امیدوار ممالک کے خلاف "زہر" پھیلانے کے منصوبوں کا علم تھا۔ قطر نے فٹبال عالمی کپ کی میزبانی 10 دسمبر 2010ء کو حاصل کی تھی۔

اس منصوبہ بندی میں ایک امریکی یونیورسٹی پروفیسر کو 9 ہزار ڈالر کی رقم پیش کرنا شامل تھا۔ پروفیسر کو ایک رپورٹ تیار کرنا تھی جس میں عالمی کپ کی میزبانی کی صورت میں امریکی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کا تفصیل سے ذکر آنا تھا۔ بعد ازاں اس رپورٹ کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں پھیلا دینا تھا۔

فزیکل ایجوکیشن کے امریکی ٹیچروں کے ایک گروپ کو بھرتی کیا گیا جس کو ارکان کانگریس پر زور دینا تھا کہ عالمی کپ کی میزبانی سے بہتر ہے کہ یہ رقم ہائی اسکول کی سطح پر کھیلوں کے لیے خرچ کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں