.

فیفا ارکان کا قطر کے خلاف عالمی کپ کی میزبانی میں کرپشن پر تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فٹ بال کی عالمی فیڈریشن ایسوسی ایشن (فیفا) کی کونسل کے متعدد ارکان نے قطر کے خلاف عالمی کپ 2020ء کی میزبانی کے حصول کے لیے کرپشن کو بروئے کار لانے کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور تنظیم کی ضابطہ اخلاق کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ قطر کی فٹ بال ٹورنا منٹ کی میزبانی کے امیدوار دوسرے ممالک کے خلاف خفیہ مہم کے شواہد کی تحقیقات کرے۔

فیفا کی کونسل قطر کے خلاف سامنے آنے والے ان دعووں کی تحقیقات کا باضابطہ اختیار نہیں رکھتی ہے۔البتہ اس نئی پیش رفت سے فیفا کے خلاف ایسے وقت میں غیظ وغضب میں مزید اضافہ ہوا ہے ،جب وہ اپنے تشخص کو بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

برطانوی اخبار دا سنڈے ٹائمز نے اتوار کو فیفا کی قطر کو فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی دینے کے عمل میں کرپشن کی کارفرمائی سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔اس کے بعد برطانوی اخبار دا ٹیلی گراف نے لکھا ہے کہ اس نے فیفا کی انتظامی کونسل کے متعدد ارکان سے رابطہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ تنظیم کی ضابطہ اخلاق کمیٹی کو اخبار کے دعووں کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

برطانوی پارلیمان کے سینیر رکن اور میڈیا ، کلچر اور اسپورٹس سلیکٹ کمیٹی کے سربراہ دامیان کولنز نے قطر کی 2022ء کی میزبانی کے حصول کے لیے کوششوں کی مناسب تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ قطر نے عالمی کپ کی میزبانی کے امیدوار دوسرے ممالک کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلانے کے لیے فرموں اور افراد کو بھاری رقوم ادا کی تھیں ۔

کولنز نے اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوجاتے ہیں تو یہ ایک بہت ہی سنگین معاملہ ہوگا۔قطر نے جن افراد کو اپنے حق اور دوسرے ممالک کی مخالفت میں مہم چلانے کے لیے رقوم ادا کی تھیں،ان میں امریکا کی مرکزی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق ایجنٹ بھی شامل تھے۔

برطانیہ کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین لارڈ ٹرائس مین نے بھی فیفا پر زور دیا ہے کہ وہ ان شواہد کی مکمل تحقیقات کرے اور اس کے بعد اگر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ قطر نے فیفا کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی تھی تو پھر اس کو عالمی کپ ٹورنا منٹ کی میزبانی اور اس کے انعقاد کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

لارڈ ٹرائس مین برطانیہ کی عالمی کپ کی میزبانی کے حصول کے لیے قائم کمیٹی کے بھی چیئرمین تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر قطر کے خلاف الزامات درست ثابت ہوجاتے ہیں تو فیفا کو برطانیہ کو میزبانی منتقل کرنے پر غور کرنا چاہیے اور یہ کوئی ایسا غلط معاملہ بھی نہیں ہوگا۔ہم فٹ بال ٹورنا منٹ منعقد کرانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔