.

ایران : اصفہان میں پھر سے عوامی احتجاج ، مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کا دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وسطی صوبے اصفہان میں بدھ کی صبح ایک بار پھر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے دوران عوام نے مہنگائی، اقتصادی صورت حال کی ابتری اور ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ پر احتجاج کیا۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش میں آنے والے وڈیو کلپوں میں اصفہان کے شہر شاپور میں بازار کے دکان داروں سمیت سیکڑوں شہریوں کے سڑکوں پر آنے کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔

ایک وڈیو کلپ میں داخلہ سکیورٹی فورسز اور ہنگامہ آرائی کے انسداد کی فورسز کے اہل کاروں کی ایک بڑی تعداد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اُن پر دھاوا بولتی نظر آ ر ہی ہے۔ تاہم اگلی صفوں میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے ان اہل کاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران مجمع یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کے نعرے لگاتا رہا اور دیگر لوگوں کو بھی احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔

"ہمارا دشمن امریکا نہیں "

اس سے قبل ایرانی سکیورٹی حکام نے منگل کی شب کرج شہر میں ہونے والے مظاہرے کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جب کہ احتجاج کرنے والے شہری بدستور "آمر مردہ باد " اور "ہمارا دشمن امریکا نہیں حکمراں نظام ہے" کے نعرے لگاتے رہے۔

فارس صوبے کے مرکز شیراز شہر میں بھی ایرانی نظام کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے کے علاوہ اقتصادی اور معاشی صورت حال تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔

اگرچہ ایرانی ریال کی قیمت مارکیٹ میں ایک ڈالر کے مقابل 1.3 لاکھ ریال سے بہتر ہو کر 1.2 لاکھ ریال ہو گئی ہے تاہم تہران کے مرکزی بازاروں میں عام ہڑتال اور دکانوں کی بندش کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور خرید و فروخت کی زیادہ تر کارروائیاں موقوف ہیں۔

صوبہ اصفہان کے شہر شاپور میں گزشتہ روز ہونے والے مظاہروں میں بازار کی دکانوں کے مالکان کے علاوہ ٹرکوں اور نقل و حمل کی گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے بھی شرکت کی۔ اس دوران مظاہرین نے "نہ غزہ ، نہ لبنان .. میری روح ایران پر قربان" کے نعرے لگائے۔

بازاروں میں احتجاج کا سلسلہ پیر کے روز سے دوبارہ شروع ہوا جب تہران کے مرکزی بازار میں بھرپور قسم کی عام ہڑتال دیکھی گئی۔ ہڑتال کی کال دکانوں کے مالکان اور اقتصادی سرگرمیاں انجام دینے والے افراد نے مہنگائی، اشیاء صرف کی قیمتوں میں اضافے اور معیشت کی بگڑتی صورت حال کے خلاف احتجاجا دی تھی۔ ایران کے مختلف صوبوں اور شہروں کے مرکزی بازار بھی اس ہڑتال میں شامل ہو گئے۔