.

ٹرمپ کی ٹویٹ کے باوجود شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن سے کوئی ملاقات طے نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے جبکہ خود صدر کا کہنا ہے کہ وہ کِم کے ساتھ جلد ایک ملاقات میں مل بیٹھنے کو تیار ہیں۔

انھوں نے جمعرات کو اس ٹویٹ میں 1950-53ء میں لڑی گئی کوریا جنگ کے دوران میں ہلاک شدہ پچاس سے زیادہ امریکی فوجیوں کی باقیات بھیجنے پر شمالی کوریا کے لیڈر کا شکریہ ادا کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’ مجھے آپ کے جذبہ خیر سگالی کے تحت کیے گئے اس اقدام پر حیرت نہیں ہوئی ۔میں آپ کے خط کا بھی شکر گزار ہوں اور بہت جلد آپ سے ملاقات کا متمنی ہوں‘‘۔

بعد میں وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان سارہ سینڈرس نے اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران میں کہا ہے کہ دونوں صدور کے درمیان ابھی دوسری ملاقات طے نہیں پائی ہے۔صدر ٹرمپ یقینی طور پر تبادلہ خیال کے لیے تیار ہیں ۔وہ کِم کے خط کا بہت جلد جواب دیں گے، انھیں یہ خط بدھ کو موصول ہوا تھا۔

دونوں لیڈروں کے درمیان 12 جون کو سنگاپور میں تاریخی ملاقات کے بعد یہ پہلی مراسلت ہے۔تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اس خط کے مندرجات کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے کِم جونگ اُن کے بارے میں نیک خواہشات کا ایسے وقت میں اظہار کیا گیا ہے جب بعض امریکی عہدے دار شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروگراموں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اپنی میزائل تنصیبات کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں ہے اور وہ دوبارہ میزائلوں کی تیاری کا کام شروع کرسکتا ہے۔