.

"دبئی پہنچنے والے "بھارتی" کی کہانی جو چند برسوں میں ارب پتی بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج سے تقریبا 45 برس قبل 31 دسمبر 1973 کو ایک "ضمرہ" نامی ایک بحری جہاز دبئی کے ساحل پر لنگر انداز ہوا تو اس میں ایک 17 سالہ بھارتی نوجوان یوسف علی بھی سوار تھا جو دیگر متعدد غریب افراد کے ساتھ "روزی روٹی" کی تلاش میں یہاں پہنچا۔ یہ نوجوان آنے والے وقت میں دبئی کا ایک اہم ترین اور مشہور ترین ارب پتی تاجر بن گیا۔

یوسف علی کی عمر اس وقت 62 برس ہے اور وہ " لؤلؤ ہائپر مارکیٹ" کے نام سے اسٹورز کی ایک چین کے مالک ہیں۔ اس کا شمار متحدہ عرب امارات کے مشہور اور قدیم ترین اسٹورز میں ہوتا ہے۔ رواں برس 18 جولائی کو مذکورہ اسٹور نے اپنی 150 ویں شاخ کا افتتاح سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کیا۔

لؤلؤ اسٹورز کا سلسلہ اس وقت 21 ممالک تک پھیل چکا ہے جہاں 37 مختلف شہریتوں سے تعلق رکھنے والے 40 ہزار سے زیادہ ملازمین کام کر رہے ہیں۔

یوسف کہتے ہیں کہ کسی بھی غیر ملکی نوجوان کی طرح وہ بھی بہتر موقع کے خواب دیکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کسی نئی چیز کی تلاش میں متحدہ عرب امارات آئے۔ یوسف کے مطابق جس زمانے میں وہ امارات آئے تھے اُس وقت عالمی سطح کی یہ ترقی اور شان دار خدمات موجود نہیں تھیں جو آج امارات میں دیکھی جا رہی ہیں۔

یوسف نے بتایا کہ ان کے گھر، دفتر اور کام کی کسی جگہ بھی ایئر کنڈیشنر کی سہولت میسر نہیں تھی جو موسم کی گرمی کو کم کر سکے۔ علاوہ ازیں سڑکیں کم تھیں اور آمد و رفت اور نقل حمل دشوار تھا۔

یوسف نے بتایا کہ "گرم ترین موسم میں ہم پورے دن زمین پر مسلسل پانی گراتے رہتے تھے تا کہ فضا میں کچھ ٹھنڈک پیدا ہو"۔

اس پُرمشقّت زندگی کے ساتھ آغاز کر کے یوسف علی اس وقت "لؤلؤ ہائپر مارکیٹ" کے مالک ہیں۔ اس اسٹور کی دنیا کے مختلف حصوّں میں تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے ہونے والی سالانہ آمدنی 7.42 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ یوسف علی جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہیں وہ سونا بن جاتی ہے۔ یوسف علی کا کہنا ہے کہ اُن کے اندر ایک چیز تھی جو مسلسل یہ باور کراتی تھی کہ متحدہ عرب امارات ایک روز ترقی یافتہ اور شان دار ریاست بن جائے گی۔ یوسف کے مطابق امارات نے تیل کی برآمد سے اپنی ترقی کا سفر شروع کیا اور پھر مختلف نوعیت کی تجارتی سرگرمیوں کا ایک اہم ترین عالمی مرکز بن گیا۔

یوسف کہتے ہیں کہ "ابتدائی برسوں کے سخت دنوں نے مجھے سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے، خود کو وقف کر دینے اور مال کی قدر سکھائی"۔