ملائشیا : حزبِ اختلاف نے سعودی انسدادِ دہشت گردی مرکز کی بندش کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ملائشیا کی حزب اختلاف کے سرکردہ رکن پارلیمان اور سابق وزیر دفاع ہشام الدین حسین نے وزیراعظم مہاتیر محمد کی نئی حکومت کے ملک میں سعودی عرب کے زیر انتظام انسدادِ دہشت گردی مرکز کی بندش کے فیصلے کی مذمت کردی ہے۔

ملائشیا کے موجودہ وزیردفاع محمد صابو نے سوموار کو پارلیمان میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا تھا کہ شاہ سلمان مرکز برائے بین الاقوامی امن فوری طور پر اپنی سرگرمیاں بند کردے گا لیکن انھوں نے اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔اس مرکز نے ایک سال قبل ہی ملائشیا میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔

ہشام الدین حسین کا کہنا ہے کہ اس مرکز کی بندش سے ملک وقوم ہی کا نقصان ہوگا کیونکہ مسلم دنیا اس وقت دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لپیٹ میں ہے۔ اس مرکز کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ مل کر متشدد انتہا پسندی اور انتہا پسندانہ نظریات سے نمٹنا تھا۔

اس مرکز کا دفتر کوالالمپور میں ایک عارضی عمارت میں قائم کیا گیا تھا اور ملائشیا کے انتظامی دارالحکومت پتراجایا میں اس کی مستقل عمارت زیر تعمیر تھی۔یہ مرکز ماہرین کی نگرانی میں مسلم معاشرو ں میں امن ورواداری کے فروغ اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کررہا تھا۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد کی حکومت کے اس مرکز کی بد ش کے فیصلے سے ملائشیا میں پہلے ہی مختلف سیاسی گروپوں کے درمیان 9 مئی کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے بعد سے پائی جانے والی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ان عام انتخابات میں سابق وزیراعظم نجیب رزاق کے زیر قیادت بیرسان نیشنل اتحا د کو پہلی مرتبہ شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ یہ جماعت 1957ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعدسے برسراقتدار چلی آرہی تھی۔

ملائشیا کے شاہ سلطان محمد پنجم نے حال ہی میں مسلم اکثریتی ملک میں نسلی کشیدگی میں اضافے کے بعد لوگوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ملائشیا میں مسلمانوں کے علاوہ مختلف نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں ۔ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ نئی حکومت کے بعض اقدامات اور بیانات سے بنیاد پرست فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں