یوکرین اور جرمنی کے درمیان امن کے بدلے 10 کروڑ ٹن خوراک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فروری 1918ء کے ابتدائی نصف حصّے میں دنیا نے پہلی جنگ عظیم کے دوران پہلے امن سمجھوتے پر دستخط کی کارروائی دیکھی۔ اس سمجھوتے کا ایک فریق عوامی جمہوریہ یوکرین اور دوسرا فریق وسطی طاقتیں تھیں جن میں جرمنی سرِفہرست ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت یوکرین پر کڑی شرائط عائد کی گئیں جو سوویت دھڑوں کی عسکری مداخلت اور اپنی خود مختاری کو لاحق خطرے کے سبب خوف زدہ تھا۔

مارچ 1917ء کے دوران سلطنتِ روس کے آخری شہنشاہ نکولس ثانی کے اقتدار سے دست بردار ہونے کے ساتھ ہی یوکرین کے متعدد قوم پرست رہ نماؤں نے وزیراعظم ولادی میر وینیچنکو اور وزیر جنگ سائمن پیٹلورا کی سربراہی میں خود مختاری کا راستہ اپنایا۔ ان قوم پرستوں نے اُصولی طور پر روس کے زیرِ اثر خود مختار جمہوریہ یوکرین کے قیام کا اعلان کر دیا۔ یوکرین کے لوگوں کے جذبات اور وفاداری کی خاطر(Alexander Kerensky) کے زیر قیادت روس کی عبوری حکومت جولائی 1917ء کے دوران اس ریاست کی حمایت میں ہر گز نہ ہچکچائی۔

اس دوران اکتوبر 1917ء میں روس نے ایک دوسرا سیاسی انقلاب دیکھا۔ ولادی میر لینن کے زیر قیادت بالشویک انقلابی جماعت کے ارکان نے Alexander Kerensky کی عبوری حکومت کا تختہ اُلٹ دیا اور تمام تر اقتدار سوویت دھڑوں نے حاصل کر لیا۔ ادھر یوکرین میں مقامی باشندوں کی اکثریت نے اپنے ملک کو لینن کے پیروکاروں کے ہاتھوں میں جانے کو مسترد کر دیا۔ اس صورت حال میں یوکرین کے وزیراعظم ولادی میر وینیچنکو نے 22 جنوری 1918ء کو یوکرین کے روس سے مکمل طور پر آزاد ہو جانے کا اعلان کر دیا۔

اس سے قبل دسمبر 1917ء سے یوکرین میں بالشویک انقلابی جماعت کے ہمنواؤں اور خود مختاری کے حامیوں کے درمیان تنازع دیکھنے میں آ رہا تھا۔ یوکرین کی خود مختاری کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی ولادی میر لینن نے نومولود ریاست کو ظالم سرمایہ دارانہ جمہوریہ قرار دیا اور اپنے زیر انتظام ریڈ آرمی کو یوکرین کی اراضی کی جانب بھیج دیا تا کہ اسے واپس لیا جا سکے۔

ریڈ آرمی کی مداخلت کے سبب یوکرین نے جرمن فوج سے مدد طلب کر لی۔ جرمن فوج نے یوکرین کے قوم پرستوں کی جانب ہاتھ بڑھانے میں کوئی لمحہ ضائع نہیں کیا۔

یوکرین کی عوامی جمہوریہ ،،، بین الاقوامی سطح پر اپنی خود مختاری کو تسلیم کروانے اور ولادی میر لینن اور ریڈ آرمی کے خطرے سے اپنے تحفظ کے واسطے غیر ملکی قوت کو تلاش کرنے کے لیے کوشاں تھی۔ اس مقصد کے حصول کے عوامی جمہوریہ یوکرین نے وسطی طاقتوں کے ساتھ ایک سمجھوتے کا راستہ اپنایا۔

اس طرح 9 فروری 1918ء کو یوکرین، جرمنی، آسٹریا اور بلغاریہ کے علاوہ سلطنتِ عثمانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران پہلے امن سمجھوتے پر دستخط کیے۔ اس سمجھوتے کے تحت یوکرین کی سرحدوں کا تعیّن کیا گیا اور یوکرین اور آسٹریا کے درمیان بعض سرحدی علاقوں کے حوالے سے کئی اختلافات کو حل کیا گیا۔ علاوہ ازیں وسطی طاقتیں جمہوریہ یوکرین کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کرنے اور اُسے عسکری سپورٹ فراہم کرنے پر آمادہ ہو گئیں۔ اس کے مقابل زرخیز اراضی کے سبب معروف یوکرین آئندہ برسوں کے دوران جرمنی کو 10 کروڑ ٹن حجم کی خطیر خوراک پیش کرنے پر راضی ہو گیا۔

مارچ 1918ء کے اوائل میں مذکورہ امن سمجھوتے پر دستخط کے بعد وسطی طاقتوں نے روس کو اس امر پر مجبور کر دیا کہ وہ یوکرین کی خود مختاری کو تسلیم کر لے۔ ولادی میر لینن کی قیادت میں کمیونسٹ عناصر نے بھی عوامی جمہوریہ یوکرین کی خود مختاری کے احترام کا عہد کیا۔

پہلی جنگ عظیم کے خاتمے اور یوکرین کی اراضی سے جرمن فوج کے کوچ کے بعد ولادی میر لینن سابقہ دستخط شدہ سمجھوتے سے کا انکاری ہو گیا۔ وہ اپنی ریڈ آرمی کے ساتھ یوکرین کی اراضی میں داخل ہو گیا۔ اس نے 1919ء میں پہلے دارالحکومت کیف اور 1921ء میں پورے ملک پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح یوکرین ایک سوویت جمہوریہ بن گیا اور 1991ء تک اسی حالت میں رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں