جنیوا میں جمعہ کو ہونے والے یمن امن مذاکرات منسوخ : یو این ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے جنیوا میں جمعہ کو یمن میں جاری بحران سے متعلق فریقوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے جمعرات کی شام ایک بیان میں یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دمِ تحریر حوثی ملیشیا نے ان مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔

قبل ازیں یمنی وزیر خارجہ خالد الیمانی نے کہا تھا کہ جنیوا مذاکرات میں حکومت کی جانب سے شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ آیندہ چند گھنٹے میں کر لیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کے لیڈروں میں اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن یمن کی قانونی حکومت ہمیشہ کے لیے حوثیوں کے فیصلے کا انتظار نہیں کرے گی کہ وہ کب مذاکرات میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس سے جنیوا میں اپنے زیر قیادت یمنی حکومت کے وفدکے ساتھ ملاقات کی تھی ۔عالمی ایلچی نے یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے مجوزہ مشاورتی عمل سے وابستہ توقعات، امن عمل سے متعلق امور بالخصوص اعتماد کی فضا بحال کرنے کے اقدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا ۔

مارٹن گریفتھس نے یمنی حکومت کا امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ان کی کوششوں پر مثبت ردعمل ظاہر کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انھوں نے تسلیم کیا کہ یمنی حکومت اور عرب اتحاد نے اس مشاورتی عمل کی بحالی میں سہولت کار کا کردار کیا ہے۔

عالمی ایلچی نے یمن میں جاری بحران کے تمام فریقوں کی مشاورت سے سب کے لیے قابلِ قبول حل کی ضرورت پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ناگفتہ بہ انسانی ، معاشی اور سکیورٹی کی صورت حال سے دوچار یمنی عوام تنازع کا فوری حل چاہتے ہیں۔

ادھر الریاض میں عرب اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثی جنیوا مذاکرات میں شرکت میں سنجیدہ ہیں اور نہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عرب اتحاد یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے ہر طرح کی مدد ومعاونت مہیا کرنے کو تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں