.

شام کے حوالے سے پوتین کے ساتھ میری ملاقات خطّے کو نئی اُمید سے نوازے گی : ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ ملاقات کے بعد شام کے بحران کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا جو خطّے کے لیے ایک "نئی اُمید" ثابت ہو گا۔

ایردوآن نے یہ بات پیر کے روز روس کے شہر سُوشی میں اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ بات چیت سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ تاہم انہوں نے مشترکہ بیان کے مندرجات کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔

روسی اور ترکی کے صُدور کے درمیان سُوشی میں سربراہ ملاقات متوقع ہے۔ ملاقات میں مغربی شام کے صوبے اِدلب کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔ اِدلب شامی اپوزیشن کا آخری گڑھ شمار ہوتا ہے۔

اناضول خبر رساں ایجنسی کے مطابق سُوشی میں ایردوآن اور پوتین کی ملاقات رواں سال دونوں سربراہان کے بیچ ہونے والی چوتھی خصوصی ملاقات ہے۔

روس ایک سے زائد مرتبہ باور کرا چکا ہے کہ اِدلب کو "دہشت گردوں" سے پاک کیا جانا چاہیے۔ اُس کا اشارہ النصرہ محاذ کے جنگجوؤں کی جانب ہوتا ہے۔ ماسکو اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ عسکری کارروائیاں کرنا اور "مسلح عناصر" کو نشانہ بنانا شامی حکومت کا حق ہے۔

دوسری جانب ترکی خبردار کر چکا ہے کہ ادلب پر ہونے والا کوئی بھی حملہ ایک المیے کو جنم دے گا۔ انقرہ نے شام کے صوبے ادلب کی جانب اپنی فوجی کمک بھیجنا شروع کر دی۔

چند روز قبل ادلب کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے دیکھے گئے۔ ان مظاہروں کے دوران شامیوں نے باور کرایا کہ وہ بشار حکومت کے سقوط کے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ عوام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ادلب پر کسی بھی عسکری حملے کو رکوائے جہاں شام کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔