.

ایران کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری شانہ بشانہ کھڑی ہو: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی کابینہ نے باور کرایا ہے کہ ایران کی جانب سے عرب ممالک کے امور میں مداخلت اور ملیشیاؤں کے لیے سپورٹ ،،، دہشت گردی کا بد ترین مظاہرہ ہے۔ یہ بات سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں سامنے آئی۔

اس موقع پر کابینہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ایران کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور خطے میں اس کے آلہ کاروں پر قابو پانے کے لیے شانہ بشانہ تعاون کو یقینی بنایا جائے۔ کابینہ نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ سعودی عرب نے انسداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کوششیں کی ہیں اور وہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاون سے ہر نوعیت کی سپورٹ پیش کرنے سے کبھی نہیں ہچکچایا۔

سعودی وزیر اطلاعات ڈاکٹر عواد بن صالح العواد نے کابینہ کے اجلاس کے بعد سعودی خبر رساں ایجنسی کو جاری بیان میں کہا کہ کابینہ نے اجلاس کے دوران خطّے اور دنیا بھر میں صورت حال کی پیش رفت سے متعلق رپورٹوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی سرپرستی میں اریٹریا اور ایتھوپیا کے درمیان جدہ میں امن معاہدے پر دستخط کیے جانے کا خیر مقدم کیا گیا۔

دستخط کی تقریب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس اور متحدہ عرب امارت کے وزیر برائے خارجہ امور و بین الاقوامی تعاون شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے بھی شرکت کی۔