.

شام میں روسی طیارے کی تباہی پر امریکا کا اظہارِ افسوس ، اسرائیلی سفیر کی کریملن طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے شام میں اپنا ایک طیارہ تباہ ہونے پر اسرائیلی سفیر کو منگل کے روز وزارت خارجہ میں طلب کیا ہے۔شامی فورسز نے اس روسی طیارے کو مارگرایا ہے لیکن روس نے اسرائیلی فضائیہ کو واقعے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کے ایک نمایندے نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی سفیر کو صورت حال کی وضاحت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ماسکو میں متعیّن اسرائیلی سفیر گیری کورن کی نائب اور سفارت خانے کی ناظم الامور کیرین کوہن گیٹ نے وزارت خارجہ میں کوئی تیس منٹ تک روسی حکام سے ملاقات کی ہے۔

انھوں نے روسی وزارت خارجہ کی عمارت سے باہر آنے کے بعد کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شام میں تباہ ہونے والے روسی طیارے کے عملہ کی ہلاکت پر امریکا کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔پومپیو نے کہا کہ اس واقعے سے ایران کے شام کے ذریعے خطرناک ہتھیاروں کے نظام کی منتقلی کو روکنے کی ضرورت کی اہمیت اور بھی واضح ہوگئی ہے۔

شامی فضائیہ نے سوموار کی شب روس کے ایل 20 لڑاکا طیارے کو مار گرایا تھا۔اس حادثے میں طیارے میں سوار تمام پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

روسی وزارت دفاع نے ایک اسرائیلی طیارے کو اس واقعے کا مکمل طور پر ذمے دار قرار دیا ہے جو اس وقت شام کے ساحلی صوبے اللاذقیہ میں فضائی حملے کررہا تھا اور روسی طیارے کو ایک کور کے طور پر استعمال کررہا تھا۔

اسرائیلی فوج نے بھی روسی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے میں کسی قسم کے کردار کی تردید کی ہے۔اس نے دعویٰ کیا ہے کہ جب روسی طیارے کو شام میں مار گرایا گیا تو اس سے پہلے ہی اس کے طیارے شام کی فضائی حدود سے نکل چکے تھے۔

اسرائیلی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے اس معاملے پر اپنے اسرائیلی ہم منصب ایویگڈور لائبرمین سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ ماسکو جواب میں کوئی بھی اقدام کرسکتا ہے۔