ایران میں محرّم کی مجالسِ عزا حکمراں نظام کے خلاف پلیٹ فارمز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے کئی صوبوں میں حکام کی جانب سے کریک ڈاؤن کے باوجود محرّم کے پہلے عشرے کے دوران منعقد ہونے والی مجالس عزا نے ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف پلیٹ فارمز کی صورت اختیار کر لی ہے۔

ایرانیوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے بہت سے وڈیو کلپس گردش میں آ رہے ہیں جن میں مجالس عزا اور تعزیتی محافل عوامی فورمز میں تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ یہاں لوگوں کی جانب سے مطالبات پیش کیے جانے کے علاوہ حکمراں نظام کی پالیسیوں، غربت، بدعنوانی، لوٹ مار اور غبن کی بڑی کارروائیوں کی مذمت بھی کی جا رہی ہے۔

ایک وڈیو کلپ میں حجۃ الاسلام اَنجوی نجاد نامی مذہبی شخصیت حکمراں نظام کو نہایت سخت لہجے میں نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ نجاد نے کہا کہ "اسلامی جمہوریہ کے ذمّے داران نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے حرام مال کمایا ہے ،،، اگر اللہ نے حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل شمر کی بھی مغفرت کر دی تب بھی وہ ایرانی حکمراں نظام کے ذمّے داران کو ہر گز نہیں بخشے گا۔ ایسے میں جب کہ عوام شدید غربت کا شکار ہیں، ان عہدے داروں نے تو گرمی ، سردی اور دیگر مسائل کا مزہ ہی نہیں چکھا۔ انقلاب ان لوگوں اور ان کی اولاد کے واسطے نعمت بن گیا جن میں اکثریت بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہی ہے"۔

نجاد کے مطابق اب کے بعد حسین رضی اللہ عنہ پر گریہ و زاری کی وجہ باقی نہیں رہی بلکہ اب ان ظالموں کے خلاف کھڑا ہو جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق حکام نے مجالس میں شرکت کرنے والے نوحہ خوانوں کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ ایسا کلام ہر گز نہ پڑھیں جس میں معاشرے میں غربت کے پھیلاؤ اور ظلم و جبر پر تنقید کی گئی ہو۔

ایران کے جنوب مغرب میں واقع شہرستان الاہواز میں جہاں زیادہ تر شیعہ بستے ہیں ، مذہبی مجالس میں حکمراں نظام کے خلاف اشعار اور ملی ترانے بہت مقبول ہو رہے ہیں۔ ان میں ایرانی نظام کی طرف عرب شہریوں کے خلاف نسلی امتیاز اور کریک ڈاؤن کی پالیسیوں کی شدید مذمت سننے میں آتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں