نیویارک : ایرانی صدر حسن روحانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے
امریکا کے شہر نیویارک میں پیر کے روز ایرانی اپوزیشن کے حامیوں اور ایرانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی صدر حسن روحانی کے نیویارک کے دورے کے خلاف مظاہرے کیے۔
منگل کے روز بارش کے باوجود مظاہرین نے صبح سویرے سے ہی اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے ایرانی صدر کو امریکا میں داخلے کی اجازت دیے جانے کی سخت مذمّت کی۔ مظاہرین نے روحانی اور ایران کے حکمراں نظام پر الزام عائد کیا کہ وہ پھانسیوں، دھماکوں اور بیرون ملک اپوزیشن شخصیات کے قتل کے ذریعے ریاستی دہشت گردی میں مصروف ہیں۔
Live now, #Iranian American dissidents outside Rouhani's hotel, protesting against his illegitimate presence. #No2Rouhani #FreeIran2018 #IranRegimeChange @SecPompeo @nikkihaley pic.twitter.com/jiLoMzzW0U
— Voices of Iran (@Voices_of_Iran) September 24, 2018
علاوہ ازیں مظاہرین نے حکمراں نظام کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے جانے والے افراد کے ناموں پر مشتمل بینرز اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1988ء کے قتل عام کا ارتکاب کرنے والوں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس قتل عام میں 30 ہزار کے قریب سیاسی قیدیوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔ مظاہرین نے زور دیا کہ ایرانی نظام شام، یمن، عراق اور لبنان میں دہشت گردی کا ذریعہ ہے۔
احتجاج کرنے والوں نے حسن روحانی کو "قاتل" قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں اقوام متحدہ سے نکال دیا جائے کیوں کہ وہ ایرانی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ مظاہرین نے شدید نعرے بازی بھی کی جس میں ولایت فقیہ کے نظام کے سقوط کا مطالبہ کیا گیا۔
ادھر جانب ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا ایرانی رہ نماؤں سے ملاقات کا خواب ہر گز پورا نہیں ہو گا ،،، یہ ایک اٹل بات ہے"۔ منگل کے روز ایرانی ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک بیان میں ولایتی نے کہا کہ امریکا کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایران کی تیل کی برآمدات کو ختم کر سکے۔ ولایتی نے مزید کہا کہ "ہم چین، روس، ترکی اور دیگر دوست ممالک کے تعاون سے مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں"۔
Despite requests, I have no plans to meet Iranian President Hassan Rouhani. Maybe someday in the future. I am sure he is an absolutely lovely man!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) September 25, 2018
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ "مطالبات ہونے کے باوجود میرا صدر حسن روحانی سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے مستقبل میں کسی روز ،،، مجھے یقین ہے کہ وہ ایک شان دار آدمی ہیں"۔
ٹرمپ کی یہ ٹوئیٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دونوں صدور کے خطابوں سے چند گھنٹے قبل سامنے آئی ہے۔