.

ایرا ن نے سعودی عرب اور یو اے ای کے خلاف میزائل حملے کی دھمکی آمیز ویڈیو ہٹا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہ ِ پاسداران انقلاب سے وابستہ ایک خبررساں ایجنسی نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف میزائل حملے کی دھمکی آمیز ویڈیو اپنی ویب سائٹ سے حذف کر دی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے منگل کے روز اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر یہ ویڈیو جاری کی تھی اور اس میں سعودی دارالحکومت الریاض اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی پر میزائل حملے کی دھمکی دی گئی تھی۔اس ویڈیو میں پاسدارا ن انقلاب کے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کی فائل فوٹیج بھی شامل تھی۔

اس میں ایرا ن کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اپریل کی ایک تقریر کا کلپ بھی شامل تھا۔اس میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ’’ اب مار کر بھاگ جانے کا دور لد چکا اور یہ کہ بھاری سزا دی جائے گی‘‘۔

فارس نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے یہ ویڈیو کیوں حذف کی تھی ۔ تاہم اس نے ایسا صدر حسن روحانی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے چندے قبل کیا تھا۔

اس ویڈیو سے قبل بھی ایران کے میڈیا ذرائع اس طرح کی پروپیگنڈا فلمیں جاری کرتے رہے ہیں۔ایران نے 2016ء میں ایک ویڈیو جاری کی تھی۔ان میں ایرانی فورسز کو امریکا کے ایک طیارہ بردار بحری بیڑے کے خلاف مبینہ کارروائی میں فتح مندی کا اظہار کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا حالانکہ امریکی بحری بیڑے نے 1988ء میں ایران کی قومی فضائی کمپنی کی ایک پرواز کو مار گرایا تھا جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام 290 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

الزام تراشی اور داعش کی ویڈیو

واضح رہے کہ بعض ایرانی عہدے داروں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا نام لے کر اور بعض نےان کا نام لیے بغیر ان پر مغربی شہر اہواز میں فوجی پریڈ پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔ہفتے کے روز چار مسلح حملہ آوروں نے اہواز میں اس فوجی پریڈ کے شرکاء پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے بارہ اہلکاروں سمیت چوبیس افراد مارے گئے تھے ۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آور بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن ابتدائی طور پر اس حوالے سے نامکمل معلومات فراہم کی تھیں۔بعد میں اس نے اپنی ویب سائٹ اعماق پر تین افراد کی ایک ویڈیو شائع کی تھی اور ان کی شناخت حملہ آور کے طور پر کرائی تھی۔تاہم ان افراد نے داعش کی بیعت یا اس کا کارکن ہونے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

ایران کی سراغرسانی کی وزارت نے منگل کے روز ان حملہ آوروں کی شناخت حسن درویشی ، جواد سری ، احمد منصوری ، فواد منصوری اور ایاد منصوری کے نام سے ظاہر کی تھی۔ان میں دو سگے بھائی تھے اور ایک ان کا کزن تھا۔حسن درویشی اور ایاد منصوری دونوں داعش کی جاری کردہ ویڈیو میں نظر آرہے تھے۔تیسرے شخص کی شکل وشباہت احمد یا فواد منصوری سے ملتی جلتی تھی۔

ایران کے سرکار ی ٹی وی نے اہواز میں حملے میں ملوث گروپ سے تعلق کے الزام میں سوموار کی شب تک بائیس افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی ۔ حکام نے ان کے قبضے سے دھماکا خیز مواد اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے تھے۔

دریں اثناء ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے اہواز حملے میں ہلاکتوں کی تعداد کم کردی ہے اور کہا ہے کہ فائرنگ سے چوبیس افراد مارے گئے تھے اور پہلے سے بیان کردہ پچیسواں مہلوک بھی دراصل حملہ آور تھا۔حملے میں اڑسٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔