.

ترکی عنقریب شام میں دریائے فرات کی مشرقی جانب کارروائیاں کرے گا : ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک شمالی شام میں دریائے فرات کی مشرقی جانب شدت پسندوں پر قابو پا لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کی مداخلت کا آغاز ہو چکا ہے اور عنقریب مزید بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔

ترکی کے صدر نے یہ بات حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولمپنٹ پارٹی کے ارکان کے سامنے خطاب میں کہی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی اناضول نے دو روز قبل ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ترکی کی فورسز نے دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر سیرین کرد پروٹیکشن یونٹس کے ٹھکانوں کو بم باری کا نشانہ بنایا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے منگل کے روز بتایا ہے کہ شام میں اپوزیشن گروپوں کے زیر کنٹرول صوبے اِدلب پر بشار حکومت کا حملہ روکنے کے لیے ترکی اور روس کے درمیان معاہدہ مقررہ منصوبے کے مطابق چل رہا ہے اور اس پر عمل درامد میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

استنبول میں اپنے آذربائیجانی ہم منصب کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں اوگلو کا مزید کہنا تھا کہ اگر دہشت گرد یا شدت پسند جماعتوں نے اِدلب میں "مختلف رجحان" اپنایا تو ترکی مداخلت کرے گا۔

دوسری جانب کرملن ہاؤس کے ترجمان دمتری بیسکوف نے منگل کے روز کہا ہے کہ ترکی اِدلب میں ہتھیاروں سے خالی زون قائم کرنے کے لیے وعدوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے نزدیک ادلب سے متعلق معاہدے کو ناکامی کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔

ٹیلیفون کے ذریعے منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیسکوف کا کہنا تھا کہ "ہمارے نزدیک ابھی تک کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہر چیز مقررہ منصوبے کے مطابق نہیں ہو رہی ہے"۔

بیسکوف کے مطابق ماسکو شامی عہدے داروں کو استنبول میں شام کے حوالے سے منعقد ہونے والے چار ملکی سربراہ اجلاس کے نتائج سے آگاہ کرے گا۔ اجلاس میں ترکی، روس، جرمنی اور فرانس نے شرکت کی تھی۔