قبرص کے شمال میں کسی کو گیس کی دریافت کی اجازت نہیں دیں گے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک بحیرہ روم کے مشرق میں ترکی کے پانی میں اور قبرص کے شمال میں گیس کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔ اس حوالے سے مشترکہ دفاع کے سلسلے میں یونان اور قبرص کی حکومت کے درمیان معاہدہ بھی پایا جاتا ہے۔

بحری اقتصادی علاقے کے حوالے سے ترکی اور قبرص کے مفادات متصادم ہیں۔ دونوں ممالک رواں سال تیل اور گیس کی دریافت کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انقرہ حکومت نے صرف جزیرے کے شمال میں واقع شمالی قبرص کے ساتھ تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ تُرک جمہوریہ شمالی قبرص کو دنیا کے دیگر ممالک تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

ایردوآن نے ایک بحری جہاز اور آبدوز کے ترک بحریہ کے حوالے کیے جانے کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ جو ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ وہ منظوری کے بغیر بحیرہ روم کے مشرق میں کام کر سکتے ہیں ،،، وہ غلطی پر ہیں۔

ترکی کے صدر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ "ہم اپنے ملک، قبرص اور بحیرہ روم کے مشرق میں قدرتی وسائل کو نکالنے کی کوششیں ہر گز قبول نہیں کریں گے"۔

ترکی نے گزشتہ ماہ یہ شک ظاہر کیا تھا کہ ایک یونانی فریگریٹ نے قبرص کے مغرب میں قدرتی وسائل کی دریافت کرنے والے ترکی کے جہاز کا راستہ تنگ کیا تھا۔ یونان نے اس الزام کی تردید کی تھی جب کہ قبرص نے ترکی کو کشیدگی بھڑکانے کے حوالے سے مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں