بھارت :شورش زدہ ریاست میں پولنگ ، ایک لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات
بھارت کی شورش زدہ ریاست چھتیس گڑھ میں سوموار کو ریاستی اسمبلی کی اٹھارہ نشستوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں ۔اس موقع پر کم سے کم ایک لاکھ مسلح پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
معدنی وسائل سے مالا مال مگر بھارت کی غریب ریاستوں میں سے ایک چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغی سرگرم ہیں اور انھوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں مختلف علاقوں میں تباہ کن حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ماؤ نواز باغیوں نے ووٹنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ضلع کنکر میں دھماکا خیز مواد کو اڑاد یا تھا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔
انھوں نے ریاست بھر میں پوسٹر بھی چسپاں کیے تھے اور ان کے ذریعے ووٹروں پر زور دیا تھا کہ وہ پولنگ کا بائیکاٹ کردیں۔ماؤ نوازوں کا دعویٰ ہے کہ وہ مقامی قبائل اور غریب کاشت کاروں کے حقوق کے لیے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔
چھتیس گڑھ سمیت بھارت کی پانچ ریاستوں میں اس ماہ ریاستی اسمبلیوں کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ان ریاستوں میں دوسرے مرحلے میں 20 نومبر کوووٹ ڈالے جائیں گے اور چھتیس گڑھ میں 72 نشستوں کے انتخاب کے لیے پولنگ ہوگی۔
ریاست کے ایک سینیر پولیس افسر ڈی ایم اواستھی نے صحافیو ں کو بتایا کہ ’’ پہلے مرحلے میں پولنگ کے پُرامن انعقاد کے لیے قریباً ایک لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ان میں مرکزی پیراملٹری فورس کے دستے بھی شامل ہیں‘‘۔انھوں نے بتایا کہ ماؤ نواز باغیوں نے جگہ جگہ بارودی سرنگیں نصب کررکھی تھیں جس کے پیش نظر دور دراز علاقوں میں انتخابی عملے کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا گیا ہے۔
اس ریاست میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی گذشتہ پندرہ سال سے حکومت چلی آرہی ہے۔اس ریاست کی آبادی ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ریاستی وزیر اعلیٰ رامن سنگھ ان انتخابات میں چوتھی مدت کے لیے امیدوار ہیں۔انھوں نے باغیوں پر ریاست میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں حائل ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔
واضح رہے کہ ماؤ نواز گروپوں نے بھارت کی دس سے زیادہ ریاستوں میں بغاوت برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔وہ ریاست چھتیس گڑھ ، اوڑیسہ ، بہار ، جھاڑکھنڈ اور مہاراشٹر میں زیادہ متحرک ہیں۔ان ریاستوں میں بیشتر آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کررہی ہے اور انھیں ضروری شہری خدمات تک رسائی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ چین کے آنجہانی لیڈر ماؤزے تنگ سے متاثر ہو کر کاشت کاروں نے بھارت کی مغربی ریاست بنگال میں کوئی پانچ عشرے قبل جاگیرداروں کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی تھی ۔اس کے بعد ان کی بغاوت دوسری ریاستوں تک بھی پھیل گئی تھی۔ماؤ نوازوں اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں قریباً دس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔