.

طارق رمضان کی سیکڑوں غیر اخلاقی تصاویر برآمد ، متاثرہ خواتین کے ساتھ سیلفیاں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الاخوان المسلمین تنظیم کے بانی حسن البنا کے نواسے اور سوئس اسکالر طارق رمضان کے جنسی اسکینڈل کے حوالے سے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ طارق ان دنوں فرانس میں مشروط رہائی کے بعد وقت گزار رہے ہیں۔

فرانس کے ایک اخبار Le Journal du Dimanche نے اتوار کے روز بتایا کہ پولیس نے طارق کے الکٹرونک ڈیٹا کا باریک بینی سے بغور جائزہ لینے کے بعد 776 غیر اخلاقی اور جنسی تصاویر برآمد کر لی ہیں۔ ان میں بعض تصاویر اُن خواتین کے ساتھ بھی ہیں جو ابھی تک طارق کے خلاف آبرو ریزی اور جنسی حملوں کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں۔

پولیس کو ملنے والی تصاویر میں طارق کی خواتین کے ساتھ غیر اخلاقی حالت میں لی گئی "سيلفياں" بھی شامل ہیں۔ طارق کے خلاف آبرو ریزی کے الزامات سے متعلق تحقیق کاروں نے ملزم کے آئیفون 7 پلس اور سام سنگ گیلکسی فونز کے علاوہ بیرونی اسٹوریج ڈسک، میک بُک پرو، آئی پیڈ پرو،USB اور دو لیپ ٹاپس کی تلاشی لی۔

فرانس کی عدالت نے تقریبا دو ہفتے قبل طارق رمضان کو 3 لاکھ یورو کی مالی ضمانت کے مقابل عارضی طور پر رہا کر دیا تھا۔ طارق کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا ہے اور اسے فرانس سے باہر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ طارق کا خود پر الزام عائد کرنے والی خواتین یا اس مقدمے کے گواہان کے ساتھ کسی قسم کا بھی رابطہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ سوئس اسکالر کو ہفتے میں ایک بار پولیس کے مرکز آ کر فرانس میں اپنی موجودگی کو ثابت کرنا ہو گا۔

یاد رہے کہ فروری میں گرفتاری کے بعد سے الزامات کو مسلسل مسترد کرنے والے طارق رمضان نے 22 اكتوبر کو اُن خواتین میں سے دو کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا اقرار کر لیا جنہوں نے اُس پر آبرو ریزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان دو خواتین کے نام ہندہ العياری اور پول ایما ایلن ہیں۔

تاہم طارق نے فرانسیسی ججوں کو بتایا کہ یہ جنسی تعلقات "دو طرفہ رضامندی" سے قائم ہوئے۔