.

عرب دنیا میں سعودی عرب بنیادی ستون کی حیثیت کا حامل ہے: پوپ تواضروس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے قبطی آرتھوڈکس چرچ کے پوپ تواضروس دوم نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور دوسرے سعودی عہدے داروں کی مذہبی ، سیاسی اور ثقافتی سطح پر ملاقاتیں قوم کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گی اور ان سے انسانی (وسائل کی ) ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

پوپ تواضروس نے بدھ کو روزنامہ عرب نیوز سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ ہم ان کاوشوں کو سراہتے ہیں،ان سے سعودی عرب میں ہمارے بھائیوں کے لیے بہت سی امیدیں پیدا ہوئی ہیں‘‘۔انھوں نے کہا کہ ’’انھوں نے سعودی ولی عہد کو کھلے ذہن کا پایا ہے۔ وہ زندگی کے بارے میں جدید ویژن رکھتے ہیں۔اس سے ہمیں بہت اطمینان ہوا ہے‘‘۔

قبطی پوپ نے کہا’’ میں ذاتی طور پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور دوسرے سعودی عہدے داروں کی ہدایات کی روشنی میں ہونے والی مثبت پیش رفت کو ملاحظہ کررہا ہوں ‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ سعودی عرب عرب اور اسلامی دنیا کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک بنیادی ستون کی حیثیت کا حامل ہے‘‘۔انھوں نے اخبار کو بتایا کہ وہ بہت جلد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔سعودی ولی عہد نے اس سال مارچ میں مصر کے سرکاری دورے کے موقع پر انھیں سعودی مملکت میں آنے کی دعوت دی تھی۔

الاخوان المسلمین اور مصر میں عیسائیوں کا خوف

پوپ تواضروس نے مشرقِ اوسط کے عیسائیوں سے خالی ہونے کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ مشرقِ اوسط کا عیسائیوں سے خالی ہونا فطرت کے بھی خلاف ہے۔ہمارا خطہ عیسائیت ، اسلام اور یہودیت کی موجودگی کے ساتھ آگے بڑھا ہے ۔شام اور عراق ایسے ممالک میں جو کچھ بھی ہوا ہے، وہ بہت ہی اذیت ناک ہے‘‘۔

انھوں نے مصر میں عیسائیوں کے خوف وخدشات کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے۔بالخصوص چند سال قبل الاخوان المسلمین کے مختصر دورِ حکومت میں عیسائیوں کے تجربے کے بارے میں بتایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’عیسائیوں کو اپنی زندگیوں کے حوالے سے خطرات لاحق ہوگئے تھے اور انھوں نے ملک سے راہِ فرار اختیار کرنا شروع کردی تھی۔جب ملک میں دوبارہ استحکام آیا تو ان میں سے بہت سے مصر لوٹ آئے تھے۔اس کے بعد عیسائیوں کے ترکِ وطن کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے‘‘۔