.

آسٹریلیا میں موبائل فون پر صارفین کی جاسوسی کا متنازع قانون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس میں موبائل فون پرصارفین کی جاسوسی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس متنازع قانون کی منظوری کے بعد آسٹریلیا کی حکومت فیس بک اور ایپل جیسی ٹکنالوجی کمپنیوں کو وائٹس ایپ پر iMessage پر پیغام رسانی کے لیے عقبی راستے کھولنے پر مجبور کرے گی۔ یوں صارفین کی پرائیویسی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کو بھی مشکلات کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

صارفین کی پرائیوسی کےحقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے موبائل فون پر صارفین کی جاسوسی کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس قانون کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

آسٹریلی پارلیمنٹ گذشتہ کئی ماہ سے خفیہ طورپر متناع بل کی تیاری کے لیے کام جاری رہاہے مگر اس کی خبریں لیک ہونے کے بعد شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اگر آسٹریلیا کی حکومت ٹکنالوجی کی کمپنیوں کو اپنے مصنوعات کی سیکیورٹی بڑھانے پر مجبور کرتی ہے تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آسکتےہیں۔ ایسے میں کمپنیوں کے پاس ایک عقبی راستہ موجود ہوگا۔ اس طرح جرائم پیشہ لوگ اور آسٹریلیاں کی طرز پرچلنے والی حکومتیں‌بھی اس سے ناجائز فائدہ اٹھائیں گی۔

اگر کوئی ٹیکنالوجی کمپنی آسٹریلیا کے قانون کے نفاذ کے لیے عقبی راستہ مہیا کرتی ہے تو کئی دوسرے ممالک بھی اس صلاحیت کا مطالبہ کریں‌گے۔ اس قانون کے تحت ریاستی حکام کو کمپنی کے ملازمین کے ساتھ ڈیلنگ کی اجازت ہوگی۔

ایسے میں یہ قانون حکومت کو ٹیکنالوجی کمپنی کے کسی ملازم یا انجینیر کو معلومات کی فراہمی پر مجبور کرے گی۔ اسی طرح حکومت اس قانون کے تحت کسی ایک فرد یا افراد کے چھوٹے سے مجموعے کے بارے میں بھی خفیہ طورپر جان کاری حاصل کرے گی۔

اس قانون کے تحت آسٹریلیا میں سروسز فراہم کرنے کے لائسنس لینے والی کمپنیاں اگرقانون کی پابندی نہیں کریں‌گی تو انہیں 73 لاکھ ڈالر تک جرمانہ ہوسکتا ہے، نیز قانون کی خلاف ورزی کرنے والےافراد کو قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب حکومت اور قانون سازوں کا موقف ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں‌کو 'نتھ' ڈالنے صارفین کی جاسوسی یا ان کی پرائیویسی میں مداخلت نہیں بلکہ اس قانون سے جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی اور انسداد دہشت گردی میں معاونت حاصل کرنا ہے۔ پارلیمنٹ میں‌اس قانون کےمخالفین نےشروع میں مسودے میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا مگر بعد میں اپوزیشن بھی حکومت کی طرف سے پیش کردہ بل کو من وعَن قبول کرلیا تھا۔

آپریشن رہ نما بل شورٹن نے صحافیوں سے بات کرتےہوئے کہا کہ ہم قانون کی منظوری میں‌معاونت کریں‌گے بلکہ اس سےبڑھ کر ہم اس قانون پرعمل درآمد کے لیے سیکیورٹی اداروں کو جن وسائل کی ضرورت ہے وہ بھی انہیں فراہم کیے جائیں۔