.

اقوام متحدہ ایران کے خلاف بیلسٹک میزائلوں کے تجربات پر سخت اقدام کرے: امریکا

ایران پر عاید اسلحے کی خرید وفروخت کی پابندی 2020ء میں ختم نہیں کی جانی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف بیلسٹک میزائلوں سے متعلق پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے لیے کونسل کے پندرہ رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

انھوں نے بدھ کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی اسلحے کی خرید وفروخت کی پابندی 2020ء میں بھی ختم نہیں کی جانی چاہیے ۔امریکا ایران کے خلاف اس پابندی کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں کرے گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ بندرگاہوں اور گہرے سمندروں میں ایران کی اسلحے کی پابندی سے بچنے کے لیے کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی موثر بنائی جائے اور اس پر اس ضمن میں مزید پابندیاں عاید کی جائیں۔

مائیک پومپیو نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف میزائل تجربات پر سخت پابندیاں عاید کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس سیکڑوں میزائل ہیں اور وہ ان سے خطے میں امریکا کے اتحادیوں کو نشانہ بنا سکتاہے ۔

انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر ایران نے بیلسٹک میزائلوں کو ذخیرہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو اس سے ہمارے اپنے لوگوں کی سکیورٹی خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔اگر ہم خطے میں سد جارحیت کو بحال کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو تنازع کی شدت میں اضافے کا خدشہ ہے‘‘۔

مائیک پومپیو نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ایران پر جوہری ہتھیار لے جانے والے میزائلوں کی تیاری پر عاید پابندی کو 2010ء میں منظور کردہ قرارداد نمبر 1929 کے مطابق برقرار رکھا جائے۔

اس قرارداد کے بعد سلامتی کونسل نے 2015ء میں قرارداد نمبر 2231 منظور کی تھی جس کے تحت ایران کے ساتھ چھے بڑی طاقتوں کے طے شدہ جوہری سمجھوتے کی توثیق کی گئی تھی۔اس قرارداد میں بھی ایران پر زور دیا گیا تھا کہ وہ میزائلوں کی تیاری کے حساس نوعیت کے کام سے باز رہے۔

واضح رہے کہ ایران پرایک عرصے سے یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کو بیلسٹک میزائلوں سمیت اسلحہ مہیا کرنے کا الزام عاید کیا جارہا ہے۔حوثی باغی اس کے مہیا کردہ بیلسٹک میزائلوں ہی کو سعودی عرب کے جنوبی شہروں کی جانب آئے دن داغتے رہتے ہیں۔